عیسائیت

Christianity

سلوک ہمسایہ

Neighborly Kindness

Published in Nur-i-Afshan August 7, 1884
By. Rev. Elwood Morris Wherry
(1843–1927)

بڑے حکموں میں دوسرا حکم یہہ ہے کہ تو اپنے بڑوسی کو اپنے برابر پیار کر۔ یہاں پڑوسی سے دنیا کے سب لوگ مراد ہیں پر خصوساً  اس لفظ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہمارے آس پاس  رہتے ہیں۔ چنانچہ دیل کی باتیں اُنہیں سے متعلق ہیں۔

سوال یہہ ہے کہ ہم اپنے  پڑوسیوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔ج۔ قانون صاف اور ظاہر ہے کہ تو اپنے پڑوسی کو اپنا برابر پیار کر۔اگر ہم  اسے بخوبی سمجھ لیں تو  ہر معاملہ  میں اُس  سے رہنمائی  پائینگے۔ ہمکو چاہیئے کہ اپنے پڑوسیوں  کو  اپنے ساتھ خدا کے بڑے  خاندان  میں شریک  تصور کریں اور اُنسے وہی سلوک  کریں جو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔ اُن باتوں سے کنارہ  رہنا لازم ہے جنسے ہمارے پڑوسی  کو رنج یا نقصان  پہنچے۔ اسجگہ میں کوڑا  پھینکنا جس  سے ہمارے ہمسایہ کو تکلیف  ہو مناسب ہے۔  پڑوسی کے آنگن میں پتھر پھینکنے  یا اُسکے لڑکے بالوں سےبدحلو کی کرنیکی اپنے لڑکوں  کو اجازت  دینا بیجا ہے۔

جس وقت کوئی ہمسایہ ہمکو نقصان پہنچائے تو گالی دینے یا عدالت میں رجوع کرنے  کے برخلاف یہہ بہتر ہو گا  کہ اُسکے  پاس جاکے  آیندہ کے لیے ایسی باتوں کے دور  رکھنے کے لیے  مشورہ کریں ۔ زیل کے قصہ سے وہ طریقہ  ظاہر ہوتا ہے  جسپر عمل کرنا چاہیئے۔

ایک آدمی نے یوں بیان کیا ہے کہ  آگے میرے پاس بہت سی مرغیاں تھیں اکثر میں انکو بند رکھا کرتا تھا پر آخر کو یہہ خیال کیا کہ انکے پروں کو تراش دوں تاکہ  وہ اُڑ نہ سکیں اور اُنہیں احاطہ میں پھرنے دوں ایک روز جب میں مکان پر  آیا تو مجکو  یہہ خبر ملی کہ میرا پڑوسی نہایت خفا  ہو کے میرے مکان ٍپر  دوپھر کو آیا تھااور معلوم ہوا کہ میری مرغیاں اُسکے باغیچے  میں گئی تھیں اُسنے  اُن میں سے کئی ایک  کو مارا کے  میرے احاطہ میں پھینکدیا۔ یہہ حال سنکر مجکو بہت غصّہ آیا اور اُس شخص سے بدلہ لینے یعنے اُسکو عدالت میں لیجانے یا اُس سے کسی اور طرح کا انتقام لینے کا ارادہ کیا لیکن پہلے بیٹھ کے مینے کھانا کھایا اور جب میں کھانا کھا چکا تو میرا دل کچھ نہ کچھ ٹھنڈا  ہو چکا تھا اور مجھے یہہ خیال  ہوا کہ شائد ایسی چھاٹی بات کے لیے اپنے پڑوسی سے لڑنا اور یوں اُسے سخت دشمن بنا لینا مناسب  نہیں  پس مینے ایک دوسرے  بے طور  کا سلوک اُسکے ساتھ  کرنیکا ارادہ کیا چنانچہ کھانے کے بعد میں اُسکے مکان پر گیا تو وہ اپنے باغیچہ  میں تھا جب میں وہاں پہنچا  تو اُسے باتھ میں چھڑی لئے ہوئے ایک مرغی کے پیچھے دوڑتے اور اُسے ہلاک  کرنیکی کو شش  کرتے پایا جب میں نے اپس سے صاحب سلامت کی تو بڑی خفگی سے مجھپر نظر کر کے چلاّ اُٹھا کہ ارے تو نے میرا بڑا نقصان  کیا ہے اگر ہو سکے تو میں تیری کل مرغیوں کو مار ڈالونگا کیونکہ اُن سے میرے باغیچہ کی تمام بر بادی ہوئی۔

میں نے کہا کہ میں بہت افسوس کرتا ہوں کیونکہ میں آپکا نقصان نہیں چاہتا اور اب مجکو معلوم ہوا کہ میں نے جب اپنی مرغیوں کو باہر جانے دیا تو بڑی غلطی  کی میں آپ سے معافی  مانگتا ہوں اور اُس سے راضی ہو کہ جو کچھ نقصان آپکا ہوا ہو اُسکا چھہ گنا بدلہ دوں۔

یہہ سنکے وہ شخص حیران ہوا اور یہہ نہ جانا کہ کیا جواب دے۔ پہلے آسمان کی طرف  پھر زمین کی پھر میری طرف پھر اپنی چھڑی پر۔ پھر اُس  بیچاری  مرغی کی طرف جسکے پیچھے دوڑ رہا تھا نگاہ کی لیکن کچھ بول نہ سکا۔

پھر میں نے کہا کہ اپنے نقصان کا حساب  بتلایئے اور میں اُسکا چھہ گنا بدلہ دونگا اور پھر پیری مرغیاں یہاں ہرگز نہ آنے  پائینگی  جتنا آپ بتلائیں اُتنا ہی میں دونگا  ۔ میں نہیں چاہتا کہ مرغیوں یا اور کسی چیز کے سبب سے اپنے پڑوسی کی  خیرخواہی یا محبت  کو ضائیع کروں۔ اتنا سنکر اُسنے کہا کہ میں بڑا بیوقوف  ہوں کیونکہ جو نقصان میرا ہوا وہ  زکر  کرنیکے قابل نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ میں اُن مرغیوں کے بدلے آپکو  کچھ دوں  اور آپ سے معافی مانگوں۔

جو  لڑائیاں پڑوسیوں کے بیچ میں ہوتی ہیں اُنکی جڑ اکثر چغلی ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے ہمسایہ سے ناراض ہو کے اُسکی نسبت کوئی سخت کلام  کرتا ہے پر  سننے والے اُسکے خلاف کہ صلح کروانیکی کوشش کریں اُسکے  پاس جاکے  جسکی نسبت کہا گیا تھا شائد مبالغہ کے ساتھ  اُس سے بیان کرتے ہیں تب دوسرا یہہ سنکے بدلہ  لینکا ارادہ کرتا ہے اور اپس حال میں جو کچھ وہ کہے وہ پہلے کے پاس پہنچایا جاتا ہے اور یوں ہی فسادِ عظیم ہوتا ہے۔ اکثر خانگی نوکروں کو اسبات کا بڑا شوق ہوتا ہے کہ جو کچھ اپنے مالکوں کے حق میں سنتے اسے مبالغہ کے ساتھ بیاں کرتے ہیں لیکن اُنکی ہرگز سننا نہ چاہیے۔

اگر کسی پڑوسی کی تمکو شکایت کرنی منظور ہو تو اُسی کے پاس جا کے سہولت سے اُسپر اظہار  کرو لیکن غیر شخص سے اُسکا  زکر نہ کرو اگر تم اپنے پڑوسی کے حق  میں کسی سے سخت کلام سنو تو چغل  خوری سے اپنی نفرت ظاہر کرو لیکن خود چغل  خور مت بنو اگر تم اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا نہ کہہ سکو تو  بُرا بھی نہ کہو اکثر خاموشی دانائی  اور فضول  گوئی بیوقوفی ہے۔

حتی الا مکان پڑوسیوں پر مہربان ظاہر کرنی واجب ہے۔  جب ہم اُنکو راہ میں دیکھیں تو آپ سے سلام کرنا واجب  ہے۔  اگرچہ پڑوسیوں کی خانگی باتونکی تحقیقات کرنی واجب  نہیں  ہے تو بھی مدد کرنی اور اُنکو خوشی پہنچانے کے موقعوں کو  خود بڑھنا چاہئے۔ خصوصاً مصیبت اور تکلیف کیوقتوں میں انکو مدد اور تسلّی دینا ضرور ہے۔ ہمسایہ جو نزدیک ہوں وہ اُس بھائی سے جو دور ہوں بہتر ہے۔ اُسوقت سے پہلے  کے رشتہ دار ہماری مدد کو آئیں مددگار کا وقت گزر جاتا لیکن دوست اور پڑوسی فوراً حاضر ہو کے مدد پہنچا سکتے ہیں  پھر اپنے پڑوسیوں کو بہتری پہنچانے میں بہت سے عمدہ طریقہ انکو اخلاق اور دلی بہبودی پہنچا نیکی کو شش کرنی ہے۔ اس  معوملہ میں سب سے عمدہ تعلیم وہ ہے جو نیک نمونہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اپنی چال چلن سے  انکے سامنے وہ خاصتیں دکھلایا  کرو جنہیں  تم چاہتے ہو کہ وہ رکھیں ۔ علاوہ اس کے یہہ بھی ممکن ہے کہ دوستانہ  ملائیم طور سے اپنے پڑوسیوں  سے اُن برُی برُی عادتوں کا جس سے اُنکو پرہیز رکھنا  ضرور ہے اور نیکیونکا  جنپر عمل  کرنا مناسب ہے بیان کریں۔  خاص کر یہہ ضرور ہے کہ تم اُنہیں بت پرستی کے ترک کرنے اور حقیقی خدا  کی پرستش  کرنیکی ترغیب دو۔ اغلب ہے کہ اُس مہربانی کے بدلے جو ہم پڑوسیوں کے ساتھ کرتے ہیں کبھی کبھی وہ ناشکری ظاہر کریں انسان ہمیشہ ناشکری کی شکایت کرنیکویتا  رہتا  ہے لیکن عموماً اسکا سبب یہہ ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔ گاہ گاہ جب کسیکی مہربانی کے بدلہ  ناشکری ہوتی  ہے تو وہ یہہ کہتا ہے کہ میں ہرگز  کسیکے لیے اتنا پھر نکرونگا۔ ہمکو چاہئے کہ نیکی کو اس غرض سے نکریں کہ  کو ئی ہمارا شکر گزار ہو۔ حکم یہہ نہیں ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیکی کرو کیونکہ تم اس طرح سے اپنے لیے بڑی خوشی  اور فائیدہ  حاصل کروگے خداوند مسیح یہہ فرماتا ہے کہ اپنے دشمنوں کو پیار کرو  تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پرہے فرزند ہو کیونکہ وہ  اپنے سورج کو بدوں اور  نیکوں پر اگاتا  ہے اور راستوں اور نادانوں پر مینھہ برساتا ہے فقط  از نخرن المسیحی۔

پاک زندگی کے قواعد

کوکب ہند

Rules of Pure Life

Published in Nur-i-Afshan January 20, 1881
By. Kokab-e-Hind

۱۔ خدا کی حضوری

ہمیشہ اِِسبات کے یاد کرنے کی کوشش کرو کہ تم خدا کی حضوری میں ہو۔ اور حتی المقدور اِس طور پر کام کرنے کی کوشش کرو گویا مسیح تمہارے پاس کھڑا ہے۔ یاد رکھو کہ وہ فی الحقیقت سو جوہی۔

ہمیشہ بالقصد سب باتوں میں خدا کو خوش  کرنے کا ارادہ رکھو۔ یہہ کہنا ہمیشہ یاد رکھو کہ اے خدا تو مجھے دیکھتا ہے۔

ایسے کام نہ کرو نہ اُن میں مشغول ہو جنکو تم مسیح کے سامنے حقیر جانتے ہو۔ اور نہ ایسے کاموں میں  مشغول ہو جنسے موت کی خوفناک حالت میں افسوس و توبہ  کرنا پڑے گی۔

اپنے سارے خیالوں میں خدا  کا عالم الغیب و حاضر و ناظر ہونا  یاد رکھو۔

۲۔ مسیح کا کفارہ اور اُسکے کام

اکثر اِن سنجیدہ باتوں پر خیال کرو تم اپنے نہیں ہو کیونکہ تم داموں سے خریدے  گئے پس تم اپنے تن سے اور اپنی روح سے جو خدا  کے ہیں خدا کی بزرگی کرو۔ اور اِن باتوں سے اپنی تجربہ کاری کو آزماؤ مسیح کی محبت کھینچتی ہے کیونکہ ہم  یہہ سمجھے کہ جب ایک سب کیواسطے موا تو سب مردہ ٹھہرے اور وہ سب سب کیواسطے موُا کہ جو جیتے ہیں سو آگے کو اپنے لیے نہ جیویں بلکہ اِسکے لیے جو اُنکے واسطے موا اور پھر جی اُٹھا۔

اور ہمیشہ یاد رکھو ‘‘تم اِسی لیے بُلائے گئے ہو کہ مسیح بھی ہمارے واسطے دُکھ پا کے ایک نمونہ ہمارے واسطے

چھوڑ گیا ہے  تاکہ تم اسکے نقش قدم پر چلے جاؤ۔ ’’

۳۔ روح پاک کی فرمانبرداری

روح القدس کی مبارک تاثیر کی اِستدعا میں چست و چالاک مستقل اور دلسوز ہو۔

سرگرمی کے ساتھ اُسکی باطنی ذبحیوں پر عمل  کرو کیونکہ جتنے خدا کی روح سے ہدایت کئے گئے وے خدا کے فرزند ہیں۔

روح  کی تقدیس کیواسطے کوشش کرو۔

ناپاک خیالوں بیہودہ کلاسوں اور برُی عادتوں سے خدا   کی پاک روح کو رنجیدہ نہ کرو۔

۴۔ ایمان

نادیدنی چیزوں کی حقیقت کا سنجیدگی  کے ساتھ خیال کرو ‘‘کیونکہ جو چیزیں دیکھنے میں نہیں آتیں وے ابدی ہیں۔

جسقدر تم دعا  مانگتے ہو اُسیقدر ایمان کی روح  کا اِستعمال کرو۔

۵۔ محبت

بار بار دلمیں یاد کرو جو کہ خدا نے مسیح کے زریعہ تمہارے واسطے کیا ہے اگر تم ایماندار ہو تو جو کچھ اُسنے  تمہارے واسطے تیار کر رکھا ہے اُسپر خیال کرو  اُسکی نیکی کیسی بے پایان ہے۔ رّبانی محّبت کے احوال سے ہمیشہ اِس امر کی کوشش کرتے رہو کہ خدا  تمہارے خیال و قول و فعل سے خوش ہو۔

سچاّ ایمان حاصل کر نیکے واسطے محنت کرو ‘‘وہ جو محبت میں رہتا ہے خدا میں اور خدا اُسمیں رہتا ہے’’۔

۶۔ دعا

خلوتی عبادت کے وقتوں پر لحاظ رکھو ‘‘ مسیح تمام رات دعا مانگتا رہا’’ جب تک پہلے الہیٰ برکت کے لیے دعا نہ کر  لو کبھی کسی کام میں ہاتھ نہ ڈالو۔ دعا مین خدا کی بزرگی اور نیکی کے بلغد خیالات کو عمل میں لاؤ۔

خداوند یسوع  مسیح کی شفاعت پر مضبوط  بھروسا رکھو روح القدس  کی مدد پر فروتنی کے ساتھ بھروسا رکھو جس بات کی تاثیر پہلے دل میں نہ معلوم کرو زبان  سے نہ نکالو۔

دعا  کی سرو دلی  اور اُسکے وقتوں کی کمی سے چوکس رہو۔

موثر دعا زور آّزمائی کہلاتی ہے۔

سید ھی پھاٹک سے داخل ہونے کی کوشش  کرو۔

جب کام میں مشغول  نہیں ہو تو دعا کی روح  کو محفوظ  رکھو ہمیشہ روح کیواسطے آہ  بھرو۔

آخر وقت تک کی دعاؤں کو ادا کرو۔

۷۔ فروتنی

اپنے  بے پایاں نالایقی کے عمیق خیالوں  کو خدا کی نظر میں ظاہر کرو اپنے آغاذ اور انجام پر رہو  وہ تو خاک ہے اور خاکمیں ملجائیگا۔

فرشتوں کی پاکیزگی پر خیال کرو اُس سے اپنی گنہگاری کا مقابلہ کرو۔

اپنی جسمانی کمزوریوں اور مجبوریوں  کو یاد کر کے غرور کو  فرد کرو۔

اپنی عمدہ کامیابیوں کے نقص  اور بدی کیطرف میلان اور نیکی سے  رو گردانی ہنوز اُسکی تاک میں ہو کر اپنے روحانی  غرور کو  رفع کرو۔

اِنسانی تعریف کے شوق نالایق  و کم قدر جانکر  فرد کرو۔

یاد رکھو کہ ہر ایک اچھی باتوں میں کتنے لوگ تم سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

۸۔ غور

دل کے اطمینان و خاموشی کے بعد سب باتوں اور سب حالتوں پر کوشش کرو۔ اِس طور کی عادت  ڈالنے پر توجہ کرو۔ ہر شام کو کم سے کم تھوڑی دیر تک موت اور آسمان کی بابت غور کیا کرو۔ اپنی  آخری  کیفیت  پر بہت  غور کرو۔

۹۔ اپنی آذمایش

ہر شام کو تمام دن کا ہراتوار کو تمام ہفتہ کا اور اگر زیادہ ہو سکے تو  ماہواری اور سالیانہ کا اپنی نسبت اِمتحان کرو۔ پاک فرشتوں مین بطور نشان و ہدایت  کے متلاشی ہو اور اُسمیں ڈھونڈھو۔

گمراہی و بے ایمانی سے دلکو بچاؤ ۔ تملق اور فریب سے ڈرو۔

۱۰۔ روزہ

روزہ اور پرہیز گاری کرو کہ عبادت کے کامونمیں  مثل دعا فروتنی خود اِمتحانی وغیرہ مین مدد پہونچے۔ جسم کے فعلوں کو قابو مین رکھئے اور دبانے کے لیے نوشتوں سے مدد لو۔

عاجزانہ اور معمولی اقرار کرنا چاہئے کہ ہم مقرری رحمتوں کے بھی ناقابل  ہیں اور بدن کی آسودگی کے واسطے روح کی خبرداری کو بہتر جاننا چاہئے۔

ہمیشہ ایسا روزہ رکھنا چاہئے جیسا خداوند نے پسند کیا۔ ‘‘اپنی روٹی بھوکھوں کو بانٹ دے۔ بھاری بوجہ اوتار۔ غریب کو اپنے مکان میں لاؤ’’۔

۱۱۔ نوشتے

گھٹنے ٹیک کر سرگرم دعا کے ساتھ اکثر  نوشتوں کو پڑھا کرو۔ پڑھو ۔ نشان کرو سیکھو اور باطن میں اُنکو ہضم کرو۔ اُن کے روحانی مطلب مناسبت اور درخواست سمجھنے کے واسطے مستقل توجہ کے ساتھ اُنکا مطالعہ  کرو۔

خدا کے پاک شرع کی روحانیت کو یاد کرو کہ وہ خیالوں اور نیتوں ارادون اور گمانوں تک اوسی طرح پہو پختی تھی جس طرح کلام اور فعل سے۔

۱۲۔ سبت

روحانی گفتگو کے علاوہ سب سے ہوشیاری کے ساتھ پرہیز کرو ‘‘تو اتنی باتیں نہ بول’’ خداوند کے دن میں روح ہونے کی کوشش کرو خاص اپنے کام نہ کرو۔

اتوار کے دن کام نہ کرو جیسا تم موت کے دن نہ کرو گے۔

جس طرح ہر ہفتہ میں ایک سبت کا دن ہے تو اُسی طرح ہر روز کم سے کم ایک گھنٹہ سبت کے کام کر۔

۱۳۔وقت

وقت کے صرف کرنے میں باقاعدہ رہو۔ لمحوں کی خبرداری کرو۔ دن کے ہر ایک  حصہ میں  متفسر کاروبار کرو۔ شام کو ہر گھنٹہ کے کام پر غور کرو۔ کبھی بے شغل مت رہو کبھی فضول شغلی نہ کرو۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ مفید کام کیا کرو۔

غفلت یا دل کی بد خصلت کو کام  میں نہ لاؤ۔

جہاں کچھ ضرورت نہوںنہ جاؤ۔

بہت دعاؤں اور ہوشیاری سے وقت کو ہیشگی کے ساتھ شامل کرنے کی  کوشش کرو۔

۱۴۔ خواب

پہلی بیداری پر تڑکے اُٹھ بیٹھو۔ سوال و جواب نکرو۔ وقت کو پورا کرو۔

پہلے صبح کو اور بعد شام کو دعایا  حمد اور آسمانی چیزونکے خیالات میں مشغول ہو۔

ہر رات کو کہو کہ جیسا میں سونے کو مستعد ہوں ویسا ہی مرنے پر آمادہ  ہوں۔

۱۵۔ خیالات

یاد رکھو کہ تمھارے خیالات آسمان میں بخوبی سنُے جاتے ہیں۔ خیالات اور تہمت پر غالب آنے کی عادت ڈالو اُنکو بھٹکنے نہ دو۔ اکثر اوقات اُنکو پھیر لاؤ۔

فرصت کیوقت خیالات کو کسی مضمون پر مثل خدا کی حضوری ۔ مسیح کی صلیب ۔ ابدیت کی نزدیکی وغیرہ پر مشغول  کر دو۔

۱۶۔ قول

ہلکی فضول بیہودہ دنیوی گفتگو سے پرہیز  کرو۔ صرف  ہنسی مضحکہ کیواسطے کبھی بات چیت نہ کرو۔

بے سوچے کبھی نہ بولو۔

کسیکی بُرائی نہ کہو۔ ہمیشہ اُن کی بھلائی چاہو جنسے تم خط کتابت کرتے ہو۔

۱۷۔ فعل

اگر اب تم خدا کی مرضی پر عمل کرتے ہو تو  بار بار اپنے دلسے کہو۔ ہر ایک کام یسوع  مسیح کے نام پر  بطور اُسکے شاگرد  کے انجام دینے کی عادت ڈالو۔

اِس بات کی کوشش کرو کہ ہر روز کم سے کم محّبت کا ایک کام  انجام  پاوے۔

جہاں کہیں جاؤ دل میں دعا مونگو تاکہ تم بے احتیاطی سے بڑائی نہ کرو بلکہ کچھ نیکی کا سبب ہو۔

۱۸۔ گناہ کی ملامت

اور  اُن کو نجات کی باتیں سنانیکی عادت کرو۔

اگر ملامت کی ضرورت ہو دانائی سے کام کرو مگر کبھی کسی شخص کو اُس سے کشیدہ  کاطر نکرو۔

خیر خواہ صاف گو اور مہربان رہو۔

یہہ ثابت کر دکھاؤ کہ تمھارے دل میں اُس ملامت زدہ کی طرف سے بھلائی ہے۔

۱۹۔ جسمانی فرض

‘‘ آپ کو پہچان ’’ اپنی عزت کر۔

آپ سے اِنکار کر ۔ آپ پر حکومت کر۔

بدی کی شکل سے نفرت کرو اور بھاگو۔ حواسوں کی حفاظت  کرو۔

دل کی ناپاکی سے ہر طرح بچے رہو۔

خدا کے جلال کے واسطے کھاؤ پیو۔

زندگی کے واسطے غذا کھاؤ اور یہہ نہ سمجھو کہ زندگی کھا نیکے واسطے ہے تندرستی سے غفلت نہ کرو۔ خوب پیٹ بھر کے نہ کھاؤ۔

۲۰۔ مناسب فرض

اور دن سے کرو جیسا تم  چاہتے ہو کہ وے تمہارے ساتھ کریں اگر تم  اُنکی سی حالت میں مبتلا ہو۔ چونکہ یہہ مقّدس  کام ہے بیماروں سے ملو ہمیشہ اُن کے ساتھ  دعا مانگو۔ اُنکو نوشتے  سُناؤ  اُنکے حال کو تحقیق کرو۔ مسیح کے پاس لے جاؤ ۔ غریبوں کی نسبت محّبت  و ہمدردی کی طبیعت آراستہ  کرو اُنکے روحانی فواید کی فکر کرو۔

۲۱۔ ترقی  کرنا

مذہب زندگانی کا بہت بڑا کام ہے پس دِن کو خدا کے ساتھ دعائیں شروع کرو اُسکا کلام پڑھو فکر اور بھاری باتوں میں اُسکا کلام پڑھو۔

کوئی ایسا دِن گزرنے ندوجسمیں تمہارا دل آسمانی خدا کے ساتھ گفتگو نکرے اور یاد رکھو  کہ جس قدر تم اپنے دلوں کو آسمان سے دور ہٹاتے ہو اوسی قدر وے مسیحت  اور صلح کی زندگی سے دور رہتے ہیں۔

سب باتوںمیں خدا کے جلال اور اِنسان کی بھلائی  کا قصد کرو۔ زندگی کے روزانہ واقعات میں پاک مزاج مہربانی حلیمی صبر پاکیزگی سچائی کے بیچ  روح کے ثمر کی تمثیل بیان کرو۔ نہ برُ ائی کہو اور نہ برُائی سنو ۔ اگر ممکن ہو تو دوپہر کو خلوت نشین ہو۔

سب طرحسے نیکی کرنے اور نیکی حاصل کرنے کے موقعوں کو حاصل کرو۔ ٍخدا پر معمولی بھروسا رکھو اور ہر کہیں مسیح پر توکل کرو۔ آزمایشوں کے مطیع ہو اور اُنکو اِستعمال کرو۔آزمایش کا انتظار کرو اور اُن کو روکو۔

نقصانوں کی اصلاح کر و اور ترک کرو۔

ہر شام کو دریافت کرو کہ آیا اِس  دن میں گزشتہ روز سے کچھ ترقی ہوئی۔

ہر شام کو سرگرم دعا کے ساتھ اِن قاعدنکو پڑھا کرو۔ 

روح القدس کی الوہیت

اور
تاثیر اور عہدہ کا بیان

Divinity of the Holy Spirit

Effectiveness and Designation

Published in Nur-i-Afshan November 03, 1876
By
Kokab-e-Hind

اِنسان کی نجات کے کام حسب بیان پاک کتابوں کے باپ بیٹے روحِ قدس پر مشتمل ہیں یعنے خدا باپ نے نہایت دانائی سے یہہ بڑےقواعد نجات کے بوسیلہ کفارۂ مسیح کے جس میں عدل اور رحم اُسکا آشکار ہو تجویز کئے اور خدا بیٹے نے اپنی ہی ذات پر وہ سب بندوبست جس سے راستبازی اور سزائے گناہ کی پوری ہو اُٹھالیے اور خدا روح قدس اپنی قوّت سے اِنسانوں کے دلون میں اُن کاموں کی جو مسیح نے کئے تاثیر بخش کر ایمان اور توبہ اور توکلّ کرواتا۔ غرض واحد خدا اِنسان کی نجات کے کام میں اِسیطرح سے مذکور ہوا کہ یہہ تینوں ہی ملکر ایک خدا ہی اور کام اِن تینوں کا بھی یعنے نجات ایک ہی ہے۔ خدا کے سوا یہہ طاقت کس میں ہے کہ ایک  بےگناہ ضامن کا فدیہ قبول کر لیوے جس سے  شریعت  کا دعویٰ پورا ہو۔ اور بخبر خداوند مسیح کے کس شخص پر جرات اور رتبہ ہے کہ سارے جہان کت گناہوں  کا جو برخلاف مرضی خدا کے ہیں کفارہ کرے اور بغیر روح قدس کے کس میں یہہ تاثیر اور قدرت ہے کہ بگڑے ہوئے اِنسانوں کے دلوں میں اثر بخشکے اِن کو توبہ  اور پاکیزگی اور قبولیت مسیح کی طرف متوجہ کر سکے۔ یہہ مسئلہ  پاک کتابوں میں ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور یسوعی لوگوں کے دلوں کو تسّلی بخشنیوالا ہے۔ روھ قدس ایسا ازلی اور ابدی خدا ہے جیسے باپ اور بیٹا خدا ہے۔ اُسی کا  کام ہے کہ آدمیونکے دلونمیں وہ توکل مسیح پر اور وہ عالم   نجات کا جو نہایت باریک اور عجیب بھید ہے پیدا کرے خدا کی خاصّیت ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں اور مسیح کی الوہیت کا تذکرہ اُسکے کفارہ کے باب  میں ہوُچکا  ہے جس الوہیت کے سبب وہ خدا اور ایمانداروں  کے مابین واسطے ملاپ کے میانجی ہوا اور اب روح ِ قدس کا زکر  کرتے ہیں ۔ آوّل جو ذاتی اوصاف اور کام  کہ خدا باپ کی نسبت لکھے گئے ہیں وہی روحِ قدس کی نسبت پاک کتابوں میں زکر ہوئے ہیں اور اِسی سبب سے اُن کو ایک ہی جاننا چاہیے اور پرستش بھی ویسی ہی کرنی چاہیے۔ چونکہ وہ اِنسان کو پاکیزگی بخشتا ہے اِس  واسطے پاک کتابوں میں اُسکا نام روح قدس رکھا گیا۔ اور خدواند یسوع مسیح کی پیدایش اور اُس کے خون کا بہانا بھی روحِقدس کے اثر مقّدم ہیں ویسے ہی نجات کی بابت بھی رو ح ِ قدس اوّلؔ ہے۔ غرض جو کام خدا نے کیا سو روحِ قدس نے کیا اور جو کام مسیح نے گنہگاروں کے واسطے کیا  وہ بھی  روح ِ قدس کے اثر سے کیا اس سے روحِ قدس کی الوہیت اچھی طرح ثابت ہے۔ حواریوں کو جو قوت ِ معجزے کی واسطے ڈالنے بنیاد یسوعی جماعت کے بخشی گئی روح قدس  کے اثر سے تھی اور ہزاروں گنہگار جو توبہ کر کے مسیح پر ایمان لائے وہ بھی روح قدس کا اثر ہے اور قیامت کے دن جو مٹی ہوئے بدن  ایمانداروں کے واسطے پہنانے لباس حیاتِ دواپ کے دوبارہ درست کئے جاویں گے وہ بھی روح ِقدس ہی کریگا اور جب مسیح پر کے جی اُٹھا  اُس کو بھی روح قدس  نے جلایا۔ غرض کہ ایمان ہمارا واسطے امید اور متابعت کے جیسا کہ خدا پر ہوویسا ہی خداوند مسیح پر اور ویسا ہی روح ِقدس پر ہونا چاہیے(کیونکہ ہم باپ بیٹے روحِ قدس کے نام پر بپتمسا پاتے ہیں) خدا کت فضل اور محبت نے نجاتکی بنیاد ڈالی اور خداوند مسیح نے  اُس  کو جاری  کیا اور روحِ قدس نے اِنسانوں کے دلوں میں اُسکو موثر کیا۔  عہدہ روحِ قدس  کا صاف تب معلوم ہوسکتا  ہے جب ایماندار لوگ اچھی طرح سمجھ لیویں کہ نجات کے مقدمہ میں  روحِ قدس کیا کام کرتا ہے۔ جب تک یہہ بات صاف سمجھ میں نہ آوے تو جو جلال اور بزرگی روحِ قدس کو چاہیئے ہرگز کسی سے ادا نہیں  ہو سکتی اور جب تک  خود وہ   خدا  جس نے ابتدا میں  اِنسان کو پیدا کیا اپنی قدرت سے روشنی ظاہر  نہ کرے تب تک اِنسانوں کے تاریک  دلوں کا روشن ہونا محال ہے۔ مثلاً جب خداوند یسوع  یا  اُس کے حواریوں نے یہودیوں اور غیر قوموں میں جاکر بیان کیا کہ مسیح  پر ایمان لاؤ اور اپنی نجات مسیح کی صلیبی موت پر موقوف  سمجھو تب فریسیوں اور صدوقیوں  کو جن کی سمجھ اور عادت اور مسیح اور اُس کی زات کے ساتھ  عداوت  سب کو معلوم ہے اور رومیوں کو جن  کی بت پرستی کی خصلت اور گناہ کی  طبیعت تمام لوگوں میں مشہور ہے گناہ سے توبہ اور غضب سے نفرت کی وعظ کرنی مشکل تھی اور  ایسے نجات دینیوالے پر جو نہایت شرمناک موت سے موا ایمان لاتا اُن کو نہایت شرم کا باعث تھا۔ اور ہر گز  منصوّر نہیں ہو سکتا تھا  کہ یہودی اپنی شریعت کے تعصب کو یک بیک ترک  کر کے مسیح پر ایمان لاویں اور مغرور رومی اور یونانی اپنے پیارے خیالوں کو ترک کر کے اور ایسے حقیر مسیح  پر نجات کے لیے توکلّ  کریں بلکہ اِسبات کے منادیوں کی انہوں نے نہایت حقارت کی اور قسمِ قسمِ کی ازیت اور تکلیف دی اور کلام ِ پاک کو نہ مانا۔ اور جو لو گ ایاّمِ خورد سالی سے کسی مذہب کے مقیدّ رہے تھے خواہ سچےّ خدا کی پرستش یا بتوں کی پوجا میں جس وقت اُنہوں نے سناُ کہ یسوع  ناصری وہی جلال رکھتا تھا جو خدا  ہی اور اُس کی موت میں گناونکا کفارہ  ہے تو اُن کے دلوں میں نفرت زیادہ ہوئی اور جہاں تک اِنسانی عقل تقاضا کرتی ہے اُنہوں  نے نہ مانا  سوائے اِسکے مسیح کا مذہب  ماننے میں دولت اور دوست اور نام اور یگانگت ترک کرنی پڑتی تھی اِن سب کو چھوڑ  کے مسیح پر ایمان لانا آسان نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی یہہ سب عداوت اور سارے دنیاوی خیال لوگوں نے ترک کئے اور مسیح پر ایمان لائے نہ صرف ایک یو دو باچا ر بلکہ اکھٹے ہزاروہزار اور نہ صرف ایک بستی یا مشہور لوگوں میں یہہ ایمان مشہور ہوا بلکہ  بڑے بڑے شہروں میں مثل  یروسلم اور روم  اور یونان  کے شہروں اتھینی اور کارنتھہ میں شہرت  پکڑی  اسکام کا ایسا ظہور ضرور روح قدس کی ٹاثیر تھی جس کو بہت بہتوں نے درّ کیا اُنہوں نے اُسی کو نجات بنیاد سمجھا حکیموں نے اُس کو نادانی اور بیوقوفی جانا اُنہوں نے خدا کی حکمت اور قدرت سمجھ کر مان لیا ۔ حواریوں کو بھی خدا وند مسیح نے کہا کہ وے یروسلم سے باہر نہٰ جاویں  جب تک کہ روح ِ قدس اُنپر  نازل نہ ہووے  اور عین  وقت معیّن پر ظاہری طرز سے وعدے کے موافق اُن پر روح قدس نازل ہوا اور  انہوں نے رنگا رنگ معجزات کی طاقت پائی اور لوگوں کے وہم اور بطالت کو دور کرنے کے واسطے ایک سنگین ہتھیار حاصل کیا اور ایمان کی بنیاد قوم میں قائیم کی ۔ اور جیسا خداوند مسیح نے  وعدہ کیا تھا کہ روح قدس آکے دنیا کو گناہ اور راستبازی  اور عدالت سے قایل کریگا   صحت اِس کلام کی انجیل یوحنّا کے ۱۶ باب ۸ آیت سے بخوبی ہوتی ہے جس میں لکھا ہے کہ خداوند مسیح نے فرمایا ہے کہ جب تسلیّ دینیوالا آویگا  وہ دنیا  کو گناہ اور صداقت اور عدالت سے ملزم  کریگا گناہ سے اِسلیے کہ وہ مجھ ایمان نہ لائے اور صداقت سے اِس لیے کہ میں اپنے آپ  باپ کے پاس جاتا ہوإں تم مجھے پھر نہ  دیکھو گے اور عدالت سے اِس لیے کہ اِس دنیا کے سردار کی عدالت کی گئی  فقط گناہ یہی ہے کہ خدا کے بیٹے پر توکل ّ نہ کرے اور راستبازی اور طاقت کو جو روح کے اثر  سے پیدا ہوتی ہے معلوم نہ کرے۔ اگرچہ مسیحی مذہب کی راستی  کو عقلاً معلوم کر لے مگر فریب اور حسد  اور بعض وغیرہ  خطاؤں  میں جو دنیا میں مشہور میں مبتلس رہکر  مسیح کو صرف نبی یا  معلمّ جانکر مان رکھےروح  قدس اِسی گناہ کا اِنسان کو قایل  کریگا۔ تب وہ اُس پاک خدا  کے حضور میں جو اپنی زات میں غیورّ ہے دعا کے وسیلے سے ڈرنا  ڈرتا  بطفیل مسیح قبولیّت کی نیّت پر آسکیگا۔ بے کام  خاص روح ِ  قدس کے ہیں اور کسی اِنسان سے نہیں ہو سکتے۔ اور جو فرمایا کہ وہ صداقت سے قایل کریگا کہ میں اپنے باپ کے پاس جاتا ہوں اُس کے یہہ معنے ہیں کہ مسیح کے کفارہ اور راستبازی کو جنکو لیکر وہ خدا کے حضور میں شفیع بنکر موجود ہے اور ساری برکاتِ دنیاوی اور روحانی کو جو اُسی سے حاصل ہوتی ہین اور اُس پر توکلّ  رکھنے کو کہ جس سے ہمیشہ کی زندگی اور خوشی ملتی ہے لوگوں کے مغرور دل  ہرگز نہیں قبول کرتے صرف روحِ قدس اُن کے دل میں اثر کر کے اِن باتوں کا قایل کرتا ہے ۔ تب اُنکے دل خود گواہی دیتے ہیں کہ ہم لاچار اور ناتواں بدون صداقت مسیح کے خدا  کے حضور میں ہرگز صادق نہیں ٹھہر سکتے اور پھر اِس اُمید پر کہ صادق ٹھہریں اور غضب سے بچیں مسیح پر توکلّ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ دنیا کو عدالت سے بھی قایل کریگا کیونکہ اِس دنیا کے سردار کی عدالت کی گئی اِس کے یہہ معنے ہیں کہ مسیح  نے گناہ اور شیطان اور دنیا پر فتح پائی اور جو لوگ اُسپر ایمان لاتے ہیں  گناہ اور دنیا  اور شیطان میس سے کسی کے قبضہ میں نہ رہینگے بلکہ اُنپر فتح پاوینگے لوگ انہیں بلا ؤں سے ڈرتے ہیں سو خداوند مسیح نے اُن کے دلوں کو تسّلی  دی کہ ہمنے اُن پر فتح  پائی ہے اور تمھیں بھی فتح بخشونگا۔ غرض کہ روحِ قدس اِس  نجات کے کام میں بڑا بھاری وسیلہ ہے کہ تمام غلطیوں سے رہائی بخشتا ہے اور تمام خوفوں سے نجات دیتا ہے مسیح پر توکلّ اور نجات کی اُمید پیدا کرتا ہے اور ہمیشہ یہی کام کرتا ہے اور ہمیشہ کریگا۔ بدون اِس اثر کے مسیحی مذہب کی بنیاد کچھ نہیں دل کی تبدیلی ہی خدا پرستی کی جڑ ہے اور اُس جڑ کا لگانیوالا روحِ قدس ہے۔ اِسی روحِ قدس کے وسیلے سے اُنہوں نے دنیا  کو قایل کیا اور بہت پرستوں کے مندروں کو خودبخود بند کر دیا اور اُن کی پر ستش  ہٹگئی اور لوگوں کو بتوں سے نفرت پیدا ہوئی اور ہزاروں آدمیوں نے جو شیطان کی زنجیر سے پابند تھے آزادگی حاصل کی۔ یہہ کام صرف اُن کے معجزوں سے نہیں ہوا کیونکہ ہزاروں لوگ باوجود معاوئینہ معجزات اُنکے ایمان لانے بلکہ جن کے دلوں میں روحِ قدس  نے اثر کیا وہی ایمان لائے اور جن کے دل معجزات کو دیکھکر زیادہ تر سخت ہوئے تھے اُنہوں نے  اندرونی اثر پا کر برملا ایمان کو قبول کیا۔ غرض یہہ دونوں قوّت روحِ قدس کی جدُی جدُی ہیں۔ ایک وہ جس سے حواریوں کو طاقت معجزہ کی بخشی دوسری وہ جس سے  ایمانداروں کے دلوں کو نجات قبول کرنیکی رغبت دی۔ سب  لوگ جانتے ہیں کہ اِن دِنوں اگرچہ معجزہ کی احتیاج کسی کو نہیں کیونکہ مسیحی مذہب نے جڑ  پکڑی اور جماعتیں بنگئیں اور عقاید مشہور ہوئے لیکن دلوں کو تیار کرنے کی حاجت جیسے اگلے دنوں میں تھی ویسے ہی اب بھی ہے۔ اگر میں اُن خاص آدمیوں کا تذکرہ کروں جنہوں  کو روحِ قدس  نے دل تبدیل کر کے مسیح پر ایمان لانیکی قدرت بخشی تو بیشمار مثالیں پاک کتابوں سے دے سکتا ہوں کہ جو آگے گناہ میں گرفتار  تھے  روح کے وسیلے سے سچےّ ایماندار بنیں پر کچھ حاجت نہیں پڑھنیوالے آپ ہی پاک کلام  میں پرھ لیویں  گے۔ غرض خداوند مسیح اپنا کفارہ ایک دفعہ کر چکا اور اب آسمان پر موجود ہے پر روحِ   قدس اُس کی جماعت میں دنیا کے انتہا تک ہمیشہ موجود رہیگا تاکہ اُسکی تاثیر سے لوگوں کے دلوں میں پاکیزگی پیدا ہووے جیسا زمین میں تخم ڈالکے اُس کو پانی دینا اور نکمے گھاس پات سے بچانا ضرور ہے  تاکہ اُگے اور برومند  ہووے  ویسا ہی کلیسیا کا تخم روح ِ قدس  کی  تاثیر سے بڑھتا ہے تب راستبازی اور پاکیزگی کا میوہ لاتا ہے دعا کو بھی وہی مستجاب کرواتا ہے اور کمزوریوں میں ہمکو مدد بھی وہی دیتا ہے اور اِمتحان سے چھُٹکارا بھی وہی  بخشتا ہے اور اُس کام ہمیشہ جاری ہیں۔

روح ِ قدس کی تاثیر ایمانداروں کے دلوں میں اُسکے پھلوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ جیسے کہ تخم سے روئیدگی کے وقت تمیز نہیں معلوم ہوتا بلکہ درخت کی تلخی ٰاور شیرینی صرف پھلوں سے شناخت ہوتی ہے ویسے ہی روح ِ قدس بروقت آنے کے نظر نہیں آتی لیکن دل کی تبدیلی اور پاکیزگی کے بڑھنے سے آشکار ہوتا ہے۔ اور یہہ ظہور اُسکا ایسا  صاف ہے کہ کوئی   غلطی نہیں کھا سکتا بلکہ اُس کے اثر سے لوگ خود اطلاع پاتے ہیں اور جس قدر اُس کا اثر زیادہ ہوتا ہے اُسیقدر محّبت اور اخلاقی خوبیوں میں ایماندار ترقی پاتے ہین اور خراب شہوتونپر غالب آتے ہیں اور فرضوں کا ادا کرنا اُن کو آسان معلوم ہوتا ہے اور نئی زندگی اُسی کی قو تّ سے ایمانداروں کو ملتی ہے اور نجات حاصل ہوتی ہے۔ روحِ قدس  کشھ نیا الہام ایمانداروں کے دلوں میں نہیں کرتا بلکہ جو الہام پاک کتابوں میں مندرج ہیں اُنہیں کے عمل کو توفیق دیتا ہے۔ اُس کا اثر سب سے  ایماندارونکے دلوں میں یکساں نہیں ہوتا بلکہ کسی کے دل میں بہت  ہے اور کسی کے دل میں کم نظر  آتا ہے۔ جو لوگ روح کی ہدایت نہ مانیں اُن سے روح کا اثر موقوف  ہوجاتا ہے اور جو لوگ اُس کی ہدایت کو مانتے ہیں اور استعمال  میں لاتے ہیں  اُن پر روز بروز زیادہ ہوتا ہے۔ اب میں روح کی الوہیت اور عہدہ اور اثر کا بیان ک چُکا۔ ایماندار آپ ہی اپنے دل میں بہ تجربہ اُس کی تاثیر کا اثر معلوم کرینگے اور سچ  اوت جھوٹھہ اُسکا اُنیر خود عیاں ہوگا۔ 

Pages