September 2012

Did Jesus Die Voluntarily?

Did Christ Die Voluntarily?

Allama Abdullah Abdul Faadi

عبداللہ عبدالفادی

کیا مسیح جبراً مصلُوب ہوئے؟

Punjab Religious Book Society

Anarkali-Lahore 1950

Dec.29.2011

www.noor-ul-huda.com

کیا مسیح جبراً مصلُوب ہوئے؟

مصر میں مسٹرم ۔ع نے ایک چو ورقہ رسالہ شایع کیا ہے۔ جس کا نام محبت المسیح فی حفظ وصایا۔“ ہے جس میں آپ نے اس امر کے ثابت کر نے کی بے فائد ہ کوشش کی ہے۔ کہ مسیح اپنی رضا مندی سے نہےں۔ بلکہ جبراً صلیب دئے گئے اور جبراً جان دے دینا کفارہ کے منافی ہے“۔ آپ کی دلائل از قرار ذیل ہےں۔

جس رات مسیح گرفتار ہونے کو تھے اور جب آپ کو معلوم ہوا۔ کہ یہوداہ اکریوطی مجھے پکڑوائے گا۔ تو آپ نے یہ فرمایا۔ کہ ” اُس آدمی پر افسوس ہے جس کے وسیلے سے ابن آدم پکڑوایا جاتا ہے۔ اگر وہ آدمی پیدا نہ ہوتا۔ تو اُس کے لئے اچھا ہوتا۔۔۔۔۔ اور نہایت حیران و بے قرار ہونے لگا اور ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔۔۔۔۔ اور تھوڑا آگے بڑھا اور مین پر گر کر دعا مانگنے لگا۔۔۔۔۔ اور کہا اے ابا ۔ اے باپ تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اس پیالے کو میرے پاس سے ہٹا لے۔ تاہم جو میں چاہتا ہوں۔ وہ نہےں۔ بلکہ جو تو چاہتا ہے ۔۔۔۔ وہی ہو۔۔۔۔ پھر اُس نے کہا وقت آ پہنچا ہے۔۔۔ دےکھو ابن آدم کہنگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جاتا ہے۔ اُٹھو چلیں دےکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔۔۔۔ اور وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ فی الفور یہوداہ جو اُن بارہ میں سے تھا۔ اور اُس کے ساتھ ایک بھیڑ تلوار اور لاٹھیاں لئے ہوئے سردار کاہنوں اور فقہیوں اور بزرگوں کی طرف سے آپہنچی۔ اور اُس کے پکڑوانے والے نے انہےں بتا دیا تھا۔ کہ جس کا میں بوسہ لوں وہی ہے اسے پکڑ کر حفاظت سے لے جانا وہ آ کر فی الفور اس کے پاس گیا اور کہا اے ربی اور اس کے بوسے لئے انہوں نے اس پر ہاتھ ڈال کر اسے پکڑ لیا۔۔۔۔ اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا۔ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے مےرے خُدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا“ (متی ٢٨:٢٦)۔

مسٹر موصوف فرماتے ہےں کہ عبارات مافوق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صلیب اٹھانے پر راضی نہ تھے بلکہ بھاگنا چاہتے تھے۔

ہمیں اس فاضل کے انصاف اور دیانت پر تعجب ہوتا ہے۔ کہ مقدس متی کے دونوں بابوں کی عبارت کو کس قطع و بُید کیا ہے جتنے جملے آپ کے حسب منشاءتھے اُن کو تو لے لیا اور باقی عبارت کو چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ آداب مناظرہ اور شرائط مباحثہ اور طریق اعتراض یہ ہے کہ منقولی دلائل لفظ بہ لفظ نقل کئے جائےں۔ اس لئے ہم اول ان عبارتوں کو نقل کریں گے۔ جن کو ہمارے مخالف نے اس غرض سے کہ حق بات ظاہرہ ہو چھوڑ دیا ہے اور جن سے روز روشن کی طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ فی الحقیقت حضور مسیح نے اپنی رجامنڈی اور خوشی سے جان دی۔ اس کے بعد ہم آپ ہی کے استدلالات سے آپ کی تردید کریں گے۔

(١) اسی باب ٢٦ کی آیت ٦ سے ١٣ تک یوں لکھا ہے کہ۔

(٦)” اور جب یسوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے گھر میں تھا۔

(٧)تو ایک عورت سنگ مرمر کی عطر دانی میں قیمتی عطر لے کر اُس کے پاس آئی۔ اور جب وہ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔ تو اس کے سر پر ڈالا۔(٨) شاگرد یہ دےکھ کر خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ کس لئے ضائع کیا گیا؟(٩) یہ تو بڑے داموں کو بک کر غریبوں کو دیا جا سکتا تھا۔(١٠) یسوع نے یہ جان کر ان سے کہا۔ کہ اس عورت کو کیوں دق کرتے ہو؟ اس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ (١١) کیونکہ غریب غرباءتو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہےں۔ لےکن میں تمہارے پاس ہمیشہ رہوں گا۔(١٢) اور اس نے جو یہ عطر میرے بدن پر ڈالا۔ یہ میرے دفن کی تیاری کے واسطے کیا۔ (١٣) میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ کہ تمام دنیا میں جہاں کہےں اس خوشخبری کی منادی کی جائے گی یہ بھی جو اسنے کیا اس کی یادگاری میں کہا جائے گا“۔

Did Christ Die Voluntarily?

عبارت خط کشیدہ سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے۔ کہ خُداوند کو اپنی موت کا پورا اور کامل عمل تھا۔ پس اگر موت پر راضی نہ ہوتے اور بھاگنا چاہتے تھے“۔ تو بھاگنے کا بہت اچھا موقعہ تھا۔ اور یہیں سے گرفتار ہونے سے قبل آپ بھاگ سکتے تھے۔ لےکن چونکہ خداوند صلیبی موت پر راضی تھے۔ اس لئے موت کی انتظاری میں ٹھہرے رہے اور اپنے کفارہ ہونے کو بدیں الفاظ ظاہر کیا۔ کہ” جہاں کہےں اس خوشخبری کی منادی کی جائے گی“۔ کیونکہ ” خوشخبری“ کے معنی ہمارے منجی کا کفارہ ہےں۔

(٢) پھر اسی باب ٢٦ کی آیت ١٨ میں خداوند کا یہ فرمانا کہ ” شہر میں فلاں شخص کے پاس جاکر اُس سے کہنا اُستاد فرماتا ہے۔ کہ میرا وقت نزدیک ہے“۔ یہ دوسری دلےل ہے کہ مسیح کو اپنی موت کا علم تھا۔ اور اگر وہ راضی نہ ہوتے ان کے بھاگنے کے لئے بہت اچھا موقعہ تھا۔

(٣) پھر اسی باب ٢٦ کی ٢١ آیت میں خداوند نے فرمایا۔ کہ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا“۔ ثابت کرتا ہے کہ خُداوند کو نہ صرف اپنی موت کا علم تھا بلکہ اپنے پکڑوانے والے کو بھی جانتے تھے۔ چنانچہ جب یہوداہ نے کہا کہ کیا میں ہوں؟“ تو خداوند نے فرمایا ” کہ تو نے خود کہہ دیا“۔ یہ تیسری دلےل ہے کہ اگر خداوند موت پر راضی نہ ہوتے اور بھاگنا چاہتے۔ تو ضرور بھاگ سکتے تھے۔

(٤) پھر اسی باب ٢٦ کی ٢٨,٢٦ آیتوں میں خداوند کا یہ قوم کہ” لو کھاﺅ یہ میرا بدن ہے“۔ اور تم سب اس میں سے پئےو۔ کیونکہ یہ عہد کا میرا وہ خون ہے۔ جو بہتیروں کے لئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے“۔اس بات کی چوتھی دلےل ہے ۔ کہ خداوند نے اپنی خوشی سے صلیبی موت کو ہمارے گناہوں کے لئے منظور فرمایا تھا۔

(٥) خداوند کا یہ قول کہ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ انگور کا یہ شیرہ پھر کبھی نہ پےوں گا۔ اس دن تک کہ تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہت میں نیا نہ پئےوں۔“ (٢٦ باب ٢٩) اس امر کی تصریح کرتا ہے۔ کہ آپ کو اپنی موت کا خوب علم تھا۔ اور پھر بھی آپ نہےں بھاگے۔

(٦) خداوند کا اپنے شاگردوں اور پطرس سے یہ کہنا کہ تم اسی رات میری بابت ٹھوکر کھاو گے۔۔۔۔ میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اسی رات مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا“۔(٣٥-٣١:٢٦) صاف ظاہر کرتا ہے۔ کہ ااپ کو اپنی گرفتاری کے وقت کا علم تھا اور پھر بھی آپ روپوش نہےں ہوئے۔ اور نہ موت سے بچتے رہے۔

(٧) اسی باب (٢٦) کی دوسری آیت سے جس کو مسٹر م۔ع نے قصداً چھوڑ دیا اور جس ہمارے خداوند کی رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔ واضح ہوتا ہے کہ خداوند کو اپنی صلیبی موت کا بھی وقت بھی معلوم تھا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہےں۔ کہ تم جانتے ہو کہ دو دن کے بعد فسح ہو گی اور ابن آدم مصلوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا“۔

(٨) مسٹر م۔ع ہمارے خُداوند کے اس قول سے کہ” وہ نہایت حیران اور بے قرار ہونے لگا اور ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔۔۔۔ اور تھوڑا آ گے بڑھا اور زمین پر گر کر دُعا مانگنے لگا۔۔۔۔ اور کہا کہ اے ابا۔ اے باپ یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے“۔ یہ استدلال کرتے ہےں۔ کہ ہمارے منجی موت سے ڈرتے تھے۔ اگرآپ گزشتہ حوالہ جات پر پھر ایک بار نظر ڈال دیں تو آپ پر روشن ہو جائے گا۔ کہ ہمارے مخالف کا استدلال کس قدر دوراز انصاف ہے۔ جب کہ ہم ثابت کر چکے ہےں کہ مسیح نے اپنی رضا مندی اور اختیار سے صلیبی موت منظور فرمائی۔ ہم اپنے دوست کو بتلانا چاہتے ہےں کہ ہمارے منجی کا یہ خوف و ہراس محض اس لئے تھا کہ ان کے بشری قوی مضمحل ہو کر قبل از وقت جواب منہ دیں اور ایسا نہ ہو۔ کہ کمزور ہو گئے۔ چنانچہ آپ کا پسینہ خون کے قطروں کی طرح ٹپک رہا تھا(لوقا ٤٤:٢٢) چونکہ خداوند نہ نہےں چاہتے تھے کہ صلیبی موت کے بغیر فوت ہوں لہذا خُدا سے دعا کرتے ہےں اے خدا اس پیالہ کو یعنی اس موت کو جو بغیر صلیب کے قوی کے ضعف کی وجہ سے مجھ پرطاری ہونے والی ہے مجھ سے روک دے۔ چنانچہ آپ کی یہ دعا سنی گئی اور صلیبی موت آپ کو نصیب ہوئی۔

مقدس پولوس نے نہایت تفصیل کے ساتھ اس امر کو بیان کیا ہے کہ کس طرح خداوند اس موت سے پریشان تھے جو صلیب سے پہلے واقع ہونے والی تھی۔ چنانچہ عبرانیوں کے خط میں لکھتے ہےں۔ کہ ” اُس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اسی سے دعائےں اور التجائےں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا۔ اور خُدا ترسی کے سبب اُس کی سنی گئی۔ اور باوجود بیٹا ہونے کے اُس نے دُکھ اُٹھا اُٹھا کر فرمانبرداری سیکھی اور کامل بن کر اپنے سب فرمانبراداروں کے لئے ابدی نجات کا باعث ہوا اور اسے خُدا کی طرف سے ملک صدق کے طور کے سردار کاہن کا خطاب ملا“۔(عبرانیوں ١٠-٧:٥)۔

غور کا مقام ہے کہ اگر مسیح کے تضرع اور آنسو بہانے کا مطلب صرف یہ تھا کہ صلیبی موت سے بچ جائےں تو اس جملہ کا کیا مطلب ہے۔ کہ خُدا ترسی کے سبب اُس کی سنی گئی؟ حالانکہ حضور مسیح صلیبی موت سے نہ بچ سکے۔ اور عین صلیب پر فوت ہوئے۔ پھر اگر حضور صلیب پر مرنا نہےں چاہتے تھے۔ تو اس جملہ کے کیا معنی ہو سکتے ہےں کہ ” باوجود بیٹا ہونے کے اس نے دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سےکھی؟“ کیا فرمانبرداری کے یہی معنی ہےں کہ خدا کی مرضی تو یہ ہو ۔ کہ اُس کا بیٹا صلیب پر مرے۔ لےکن بیٹا یہ چاہے کہ میں صلیبی موت نہ مروں ۔ اگر حضور کی صلیبی موت اجباری تھی تو اس جملہ کا کیا مطلب ہے۔ کہ اپنے سب فرمانبرداروں کے لئے نجات ابدی کا باعث ہوا جس کے معنی صاف قربانی اور کفارے کے ہےں۔

اسی وجہ سے خُداوند نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے“۔ اور یہ نہےں کہا۔ کہ میری جان موت کی وجہ سے غمگین ہے“۔ جو عقل مند ہےں ان دونوں جملوں میں زمین و آسمان کا فرق پائےں گے۔ چونکہ بے حد تکالیف اور مصیبتوں کی وجہ سے بچنے کے لئے دعائےں کیں تاکہ آپ صلیبی موت سے مرجائےں۔ جس کے لئے آپ تشریف لائے تھے۔ اور آُ کی یہ دُعا کہ طبعی موت سے بچ جاﺅں سنی گئی۔ ہمارا دعویٰ ذیل کے دلائل پر مبنی ہے۔

اول یہ کہ خداوند نے یہ نہےں کہا۔ کہ ”موت سے“ ۔ دوم یہ کہ اسی باب کی ٤١ آیت میں ایک جملہ ہے۔ جس کو مسٹر م۔ع نے قصداً چھوڑ دیا ہے وہ یہ کہ روح تو مستعد ہے لےکن جسم کمزور ہے۔“ یعنی ایسا نہ ہو کہ ضعف کی وجہ سے صلیبی موت سے پہلے مر جاﺅں۔ سوم یہ کہ مقدس لوقا لکھتے ہےں ۔ کہ آسمان سے ایک فرشتہ اُس کو دکھائی دیا وہ اُسے تقویت دیتا تھا“۔ (لوقا ٤٣:٢٣) فرشتہ کس کو تقویت دیتا تھا اس کی انسانیت کو تاکہ قبل از وقت مر نا جائے۔ چہارم یہ کہ بار بار اپنے شاگردوں کے پاس آنا اور اُن کو جگانا تاکہ اُن کی صحبت اور موانست سے آپ کو صلیبی موت تک تقویت مل جائے۔ یہ چار دلائل ان کے لئے جو عقلمند اور منصف مزاج ہےں۔ کافی سے زیادہ ہےں۔

(٩) مسٹر م۔ع نے خداوند کے اس قول سے کہ وقت آ پہنچا ہے۔”دےکھو ابن آدم گہنگاروں کے ہاتھ میں حوالے کیا جاتا ہے۔ اُٹھو چلیں دےکھو میرا پکڑاوانے والا قریب آ پہنچا ہے“۔ یہ استدلال کیا ہے۔ کہ مسیح بھاگنا چاہتے تھے۔ جو محض ایک بہتان اور افترا ہے کیونکہ جملہ بالا سے مسیح کی رضامندی ظاہر ہو تی ہے۔ نہ کہ رضا مندی جیسا کہ ہم نے کہےں مفصل بیان کیا ہے کہ خُداوند کو اپنے گرفتار ہونے سے مدتوں قبل اس کا علم تھا۔ کہ میں یہودیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو جاﺅں گا۔ اور بالا خر نہایت تکالیف کے ساتھ مارا جاﺅں گا۔ پس اگرحضور کو بھاگنا منظور ہوتا۔ تو بہت پہلے بھاگ جاتے جہاں ان کو بھاگنے کا موقعہ حاصل تھا۔ اُس وقت تو نہےں بھاگے اور جب ان کو بھاگنے کا موقعہ نہےں بھاگنا چاہتے ہےں۔ بلکہ خُداوند کا اس قول سے کہ آ ﺅ چلیں دےکھو میرا پکڑاوانے والا قریب آ پہنچا ہے“۔ یہ مطلب تھا کہ ہم کو اپنے دشمنوں کے آ گے جانا چاہئے اور اپنے کو ان کے ہاتھ میں گرفتار کروانا چاہئے۔ تاکہ خدا کی مرضی جلد پوری ہو۔

(١٠) چنانچہ مقدس ےوحنا نے اس کی تصریح کی ہے۔ کہ مسیح گرفتار ہونے کے لئے آگے جانا چاہتے تھے۔ مقدس ےوحنا لکھتے ہےں کہ ” یہ اس لئے ہوتا ہے کہ دنیا جانے کہ میں باپ سے محبت رکھتا ہوں۔ اور جس طرح باپ نے مجھے حکم دیا میںویسا ہی کرتا ہوں۔ اُٹھو یہاں سے چلیں“۔ (٣١:١٤) پس اگر خداوند کا مقصد بھاگ جانا ہوتا تو مسیح ہرگز یہ نہ فرماتے کہ” میں باپ سے محبت رکھتا ہوں“۔ کیونکہ محبت کے معنی فرمانبرداری ہے۔ حالانکہ بقول مخالف مسیح خُدا کی نافرنبرداری کرتے ہےں۔ اور موت سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہےں۔ اور پھر مسیح کا یہ فرمانا کہ جس طرح باپ نے مجھے حکم دیا ہے میں ویسا ہی کرتا ہوں“۔ صاف ظاہر کرتا ہے۔ کہ مسیح موت کا مقابلہ کرنے کے لئے جانا چاہتے تھے ۔ نہ کہ بھاگ جانا۔

(١١) مسٹر م۔ع نے خداوند کے ایک قول کو قصداً چھوڑ دیا ہے۔ جس سے صاف واضح ہوتا ہے۔ کہ خُداوند موت پر راضٰ تھے وہ قول یہ ہے۔ کہ یسوع نے اُس سے کہا۔ اپنی تلوار کو میان میں کر لے۔۔۔۔۔ کیا تو نہےں سمجھتا کہ میں اپنے باپ سے منت کر سکتا ہوں۔ اور وہ فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کر دے گا۔ مگر وہ نوشتے کہ یونہی ہونا ضرور ہے کیونکر پورے ہوں گے“۔ پھر اپنے گرفتار کرنے والوں سے فرمایا کہ ” مجھے ڈاکو کی طرح پکڑنے نکلے ہو؟ میں ہر روز ہےکل میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا۔ اور تم نے مجھے نہےں پکڑا۔ مگر یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ نبیوں کے نوشتے پورے ہوں۔(متی ٥٦-٥١:٢٦)

ہماری سمجھ میں نہےں آتا کہ مسٹر م۔ع نے اُوپر والی عبارت کو کیوں چھوڑ دیا۔ آیا اس لئے کہ آپ ایک متعصب شخص ہےں۔ اس لئے کہ آپ کو حق کے ساتھ دشمنی ہے۔ لےکن ہم حسن ظن سے کام لے کر یہ کہےں گے۔ کہ آپ کا مطالعہ عمیق نہےں سطحی ہے۔ اور انجیل مقدس سے آُ واقف نہےں ہےں حالانکہ محقیقن پر یہ فرض ہے۔ کہ وہ فریق مخالف کی کتب پر حاوہ ہوں اور ان کے تمام دعاوی کو لفظ بہ لفظ نقل کریں۔ اگر مسٹر م۔ع اس قانوں پر عمل کرتا تو یقینا وہ خود اپنی غلطیوں کا پردہ چاک کرتا۔

آیات مافوق سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔ کہ خداوند صلیبی موت پر بالکل راضٰ تھے۔ اگر وہ روضی نہ ہوتے ۔ تو فرشتوں سے مدد لے کر اپنے مخالفین کی جڑ دیتے۔ اور اس صورت میں آپ کو بھا گنے کی بھی ضرورت نہ رہتی۔ لیکن چونکہ آپ ہمہ تن راضی بہ قضاتھے۔

اس لئے نہ تو بھاگنے کو شش کی۔ اور نہ ہی فرشتوں سے مدد چاہی۔

(١٢) ان مواضع میں سے جس سے مسٹرم۔ع نے چشم پوشی اختیار کی ہے۔ اور حق سمجھ کو چھوڑ دیا ہے۔ متی کے ٢٦ باب کی ٥٩ تا ٦٣ آیات ہےں۔ جن میں مذکور ہے۔ کہ سردار کاہن اور سارے صدر عدالت مسیح کے بر خلاف جھوٹی گواہی کو ڈھونڈنے لگے اور آخر کار دو گواہوں نے آ کر کہا۔ کہ” اُس نے کہا کہ میں خُدا کے مقدس کو ڈھا سکتا ہوں۔ اور تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں“۔ اس پر سردار کاہن نے کہا۔ کہ تو کیوں ان کا جواب نہےں دیتا۔ ”مگر یسوع چپکا ہی رہا“۔ حالانکہ خُداوند نے دو ڈھائی سال پیشتر فرمایا تھا۔ کہ تم اس ہےکل کوڈھا دو۔ تو میں تین دن میں کھڑا کر دوں گا۔ مگر اس نے اپنے بدن کے مقدس کی بابت کہاتھا“۔ (ےوحنا ١٩:٢)۔ سردار کاہن کے خداوند کو باصرار کہنے۔ کہ تو ان کا جواب دے۔ اور خداوند کا ان کی جھوٹی گواہی کو سن کر خاموش رہنے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ خداوند نوت سے بچنا نہےں چاہتے تھے۔ ورنہ خداوند اپنی صفائی پیش کرتے اور ان کی تردید کر کے آسانی کے ساتھ چھوٹ جاتے۔

(١٣) مسٹر م۔ع نے محض حق پوشی کی غرض سے نہ صرف مافوق کی آیتوں کو چھوڑ دیا ہے۔ بلکہ مقدس متی ٦٥-٦٣:٢٦ کو بھی قصداً چھوڑ دیا ہے۔ جن سے حضور کی صلیبی موت پر رضا مندی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ آیتیں یہ ہےں۔

”سردار کاہن نے اُس سے کہا۔ میں تجھے زندہ خُدا کی قسم دیتا ہوں۔ کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے۔ تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اُس سے کہا۔ تو نے خود کہہ دیا۔ بلکہ میں تم سے کہتا ہوں۔ کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دےکھو گے اس پر سردار کاہن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے۔ کہ اس نے کفر بکا ہے۔ اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی! دےکھو تم نے یہ کفر سنا ہے ۔ تمہاری کیا رائے ہے؟

سردار کاہن نے جب دےکھا۔ کہ گواہوں میں اختلاف ہے۔ اور اس اختلاف کے ہوتے ہوئے۔ وہ مسیح کو قتل نہےں کروا سکتا ہے۔ لہذا اس نے نہایت چالاکی سے یہ چاہا۔ کہ خود مسیح کی زبان سے ایسے الفاظ نکلوائے۔ جن سے اس پر قتل کا فتوی ثابت کر سکے۔ چنانچہ اس نے جو کچھ کہلوانا چاہا تھا۔ کہلوا دیا ۔ اور خداوند نے صاف صاف اپنے ابن اللہ ہونے کا اقرار کیا۔ اور اسی اقرار کی وجہ سے سردار کاہن نے آپ پر یہ کفر کا فتوی لگا دیا۔

قابل غور امر یہ ہے۔ کہ اگر حضور مسیح موت سے بچنا چاہتے۔ تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنے ابن اللہ ہونے کا ذکر نہ کر کے چھوٹ جاتے۔ لےکن چونکہ آپ کو صلیب ہی پر مرنا منظور تھا۔ اس لئے آپ نے وہی کہا۔ جس کے باعث سے آپ کو صلیب دی جائے۔

(١٤) افسوس ہے کہ مسٹر م۔ع نے انجیل جلیل کو بے تعصب ہو کر نہےں پڑھا۔ ورنہ اسی انجیل متی کے ١٧ باب میں ان کو دو ایسی باتیں مل جاتیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ کہ خداوند صلیبی موت مرنا چاہتے تھے۔

پہلی بات یہ ہے ۔ کہ جب حضور پیلاطس کے سامنے پیش ہوئے تو پیلاطس نے آپ سے کہا کہ کیو تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ حضور نے جواب دیا۔ کہ ” توخود کہتا ہے“۔ یعنی ہاں جیسا تو کہتا ہے۔ میں وہی ہوں اگر اس موقعہ پر خداوند انکا ر کرتے۔ تو آپ یقینا رہا ہوتے۔ لےکن از بس کہ آپ کو رہائی منظور نہ تھی۔ اس لئے آپ نے اس کا جواب دیا جس سے پیلاطس سمجھے کہ آپ یہودیوں کے بادشاہ ہےں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب یہودیوں کے بزرگ اور کاہن پیلاطس کے آگے حضور پر طرح طرح کے الزام لگا رہے تھے۔ اُس وقت پیلاطس نے حضور سے کہا۔ کہ تو ان کا جواب کیوں نہےں دیتا؟ خداوند نے ان کے ایک الزام کا بھی جواب نہےں دیا۔ جس سے پیلاطس کو تعجب ہوا۔ اگر خداوند موت سے بچنا چاہتے۔ تو ان کا جواب دے کر چھوٹ سکتے تھے۔

(١٥)مسٹرم۔ع نے اس جملہ سے۔ کہ” پھر یسوع بڑی آواز سے چلایا۔ اور جان دی“۔ (متی ٤٦:٢٧) یہ بھدا استدلال کیا ہے۔ کہ حضور کے چلانے سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ آپ موت پر رضامند نہ تھے۔ اگر یہ صاحب اناجیل کو دیانت داری کے ساتھ پڑھتے۔ تو ان کو معلوم ہو جاتا۔ کہ آپ کا چلانا موت کے ڈر سے نہ تھا۔ بلکہ آپ نے چلا کر ایک پیشن گوئی کے پورے ہونے کی اطلاع دی۔ وہ یہ کہ ” پورا ہوا“ (ےوحنا ٣٠:١٩) یعنی ذبح عظیم۔ خُدا کا ازلی ارادہ۔ شریعت کا مقصد اور انبیا ءعہد قدیم کی پیشن گوئےاں آ ج پوری ہوئےں۔

(١٦) اس جملہ سے بھی کہ ” جان دی“ حضور کی رضا مندی ظاہر ہوتی ہے۔

(١٧) خُداوند کے اس قول سے بھی صاف ظاہر ہے۔ کہ آپ صلیبی موت پر راضی تھے کہ ” ابن آدم اس لئے نہےں آیا کہ خدمت لے بلکہ خدمت کرے۔ اوراپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے“۔(متی ٢٨:٢٠، مرقس ٤٥:١٠)۔

(١٨) خُداوند اپنی قربانی کو بدیں الفاظ پیش کرتے ہےں کہ اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہےں کرتا۔ کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے“۔ (ےوحنا ١٣:١٥)

(١٩) پھر خُداوند فرماتے ہےں۔ کہ باپ مجھ سے اس لئے محبت رکھتا ہے۔ کہ میں اپنی جان دیتا ہوں۔ تاکہ اسے پھر لے لوں ۔ کوئی اسے مجھ سے چھینتا نہےں۔ بلکہ میں اسے آپ ہی دیتا ہوں“۔ (ےوحنا ١٨-١٧:١٠)۔

(٢٠) پھر آپ فرماتے ہےں۔ کہ اچھا چرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔“(ےوحنا ١١:١٠)۔

(٢١) خُداوند کو پوری طرح سے علم تھا۔ کہ آپ کس موت سے اور کس طرح مارے جائےں گے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہےں۔ کہ

اور یروشلیم جاتے ہوئے یسوع بارہ شاگردوں کا الگ لے گیا۔ اور راہ میںان سے کہا۔” دےکھو ہم یروشلیم کو جاتے ہےں۔

اور ابن آدم سردار کاہنوں اور فقہیوں کے حوالے کیا جائے گا۔ اور وہ اس کے قتل کا حکم دیں گے۔ اور اسے غیر قوموں کے حوالے کریں گے۔ تاکہ وہ اُسے ٹھٹھوں میںاُڑائےں۔ اور کوڑے ماریں اور صلیب پر چڑھائےں اور وہ تیسرے دن زندہ کیا جائے گا“ (متی ١٩-١٧:٢٠، لوقا ٣٣-٣١:١٨)۔

(٢٤-٢٣-٢٢) خداوند اپنی موت کے متعلق فرماتے ہےں ۔ کہ ”اور جس طرح موسی نے سانپ کو بیابان میں اونچے چڑھایا۔ اسی طرح ضرور ہے کہ ابن آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے تاکہ جو کوئی ایمان لائے۔ اس میں ہمیشہ کی زندگی پائے“ (ےوحنا ١٦-١٤:٣)۔

یسوع نے پطرس سے کہا۔” تلوار کو میان میں رکھ۔ جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا ۔ کیا میں اسے نہ پئےوں“۔(ےوحنا١١:١٨) اور جس طرح باپ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ میں ویسا ہی کرتا ہوں۔ اُٹھو یہاں سے چلیں۔“ (ےوحنا ٣١:١٤)۔

(٢٥) خُداوند فرماتے ہےں کہ۔ ” جو روٹی میں جہان کی زندگی کے لئے دوں گا۔ وہ میرا گوشت ہے“۔(ےوحنا ٥١:٦

(٢٦) پھر فرماتے ہےں کہ۔” یہ عہد کا میرا وہ خون ہے۔ جو بہتیروں کے لئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے“(متی ٢٦:٢٦،لوقا ١٩:٢٢، مرقس ٢٢:١٤)۔

ہم نے نہایت اختصار سے کام لے کر یہ ٢٦ دلائل خود اپنے منجی کے کلام سے پیش کئے ہےں۔ جن سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہمارے ،منجی کی صلیبی موت اجباری نہےں۔ بلکہ اختیار تھی۔ اب ہم عہد قدیم میں سے بعض ایسی پیشین گوئےاں بدیہ ناظرین کریں گے۔ جن سے کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے۔ کہ ہمارے منجی کی صلیبی موت اختیاری تھی۔

(١) یسعیاہ نبی حضور کے ساتھ ان کے دشمنوں کا سلوک اور استہزا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہےں کہ

” میں نے اپنی پیٹھ پیٹنے والوں کے اور اپنی ڈاڑھی نوچنے والوں کے حوالہ کی۔ میں نے اپنا منسہ رسوائی اور تھوک سے نہےں چھپایا“)یسعیاہ ٦:٥٠)۔

تمام آیت میں لفظ ” میں“ موجود ہے۔ جو اختیار پر دلالت کرتا ہے۔

(٢) پھر یسعیاہ نبی پیشین گوئی کے طور پر فرماتے ہےں۔ کہ

” یقینا اس نے ہماری مشتقتیں اٹھا لیں۔اور ہمارے غموں کا بوجھ اپنے اوپر چڑھایا پر ہم نے اس کا یہ حال سمجھا۔ کہ وہ خدا کا مارا کوڑا اور ستایا ہوا ہے۔ پر وہ ہمارے گناہوں کے سبب گھائل کیا گیا۔ اور ہماری بدکاریوں کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس پر سیاست ہوئی۔ تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم چنگے ہوں۔ ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ہم میں سے ہر ایک پانی راہ کو پھرا۔ پر خداوند نے ہم سبھوں کی بدکاری اس پر لادی۔ وہ تو نہایت ستایا گیا۔ اورغمزدہ ہوا۔ تو بھی اس نے اپنا منہ نہ کھولا۔ وہ جیسے برہ جسے ذبح کرنے لے جاتے۔ اور جیسے بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے آ گے بے زبان ہے۔ اسی طرح اس نے اپنا منہ نہ کھولا۔ ایذادے کر اور اس پر حکم کر کے وہ اسے لے گئے۔ پر کون اس کے زمانے کا بیان کرےگا؟ کہ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالا گیا۔ میری گروہ کے گناہوں کے سبب اس پر مار پڑی۔ اس کی قبر بھی شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی تھی۔ پر وہ اپنے مرنے کے بعد دولت مندوں کے ساتھ ہوا۔ کیونکہ اس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا۔ اور اُس کے منہ میں ہرگز چھل نہ تھا۔

لےکن خداوند کو پسند آیا۔ کہ اُسے کچلے۔ اُس نے اُسے غمگین کیا۔جب اُس کی جان گناہ کے لئے گزرانی جائے۔ تو اپنی نسل کو دےکھے گا۔ اور اس کی عمر دراز ہو گی اور خدا کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلے بر آئے گی۔ اپنی جان ہی کا دکھ اٹھا کے وہ اسے دےکھے گا۔ اور سیر ہوگا اپنی ہی پہچان سے میراصادق بندہ بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا۔کیونکہ وہ ان کی بدکاریاں اپنے اوپر اٹھا لے گا۔ اس لئے میں اُسے بزرگوں کے ساتھ ایک حصہ دوں گا۔ اور وہ لوٹ کامال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گا۔ کہ اُس نے اپنی جان موت کے لئے انڈیل دی اور وہ گنہ گاروں کے درمیان شمار کیا گیا۔ اور اس نے بہتوں کے گناہ اُٹھا لئے۔ اور گہنگاروں کی شفاعت کی۔ (١٢-٤:٥٣)پرانا ترجمہ۔

غرض کہ ان تمام پیشین گوئےوں سے بہ صراحت معلوم ہوتا ہے کہ حضور نہایت رضا مندی اور خوشنودی کے ساتھ اپنے گہنگار بندوں کی خاطر اپنی جان دیں گے۔ اگر ہم ان تمام پیشین گوئےوں کو جو عہد قدیم میں ہےں یہاں نقل کریں۔ تو یقینا یہ ایک ضحیم کتاب بن جائے گی۔ لہذا منصف مزاجوں اور اُن کے لئے جن کا دل تعصب سے خالی ہے۔ اتنا ہی کافی سے زیادہ ہے۔

PDF File: 

باب 1

سچائ کو خرید لو

ہر صدی اور ہر سال کے دوران بائبل مقدس دنیا بھر میں کسی بھی کتاب کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد میں بکنے والی کتاب ہے۔ آج تک بائبل مقدس کے صحائف کا 2400 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور 1940 زبانوں میں ترجمہ ہو رہا ہے۔ کوئ دوسری کتاب اِس کے قریب نہیں پہنچ سکی۔

ورلڈ کرسچن انسائکلو پیڈیا (شائع کردہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، لندن 2001 ء) کے مطابق پاک صحائف کم سے کم 2403 زبانوں میں دستیاب ہیں اور مکمل بائبل مقدس کا ترجمہ 426 زبانوں میں اور مکمل نئے عہدنامے کا ترجمہ 1115 زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اِن کے علاوہ بائبل مقدس کے کئ حصے دیگر 862 زبانوں میں دستیاب ہیں (متحدہ بائبل سوسائٹیز کی رپورٹ 2007 ء)۔

  اپنی بے مثال مقبولیت کے باوجود انسانی تاریخ میں یہ وہ کتاب ہے جس کی سب سے زیادہ تحقیر کی جاتی ہے اور جس سے لوگ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ صدیوں سے حکومتیں اور مذہبی اور دنیاوی راہنما ہر زمانے میں سب سے زیادہ بِکنے والی اِس کتاب کو غیرقانونی، ظالم اور ستمگر قرار دیتے آۓ ہیں اور اِسے اپنے پاس رکھنے والے شہریوں کو قتل کرتے رہے ہیں۔ آج بھی کئ قومیں اِسی پالیسی کو نافذ کئے ہوۓ ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مبینہ "مسیحی'' ملکوں[1] میں بھی سرکاری سکولوں اور اداروں میں یہ کتاب "ممنوع'' ہے۔

ایذائیں دی گئیں

ابھی میرا لڑکپن تھا۔ میرے والد رچرڈ کے دوست تھے۔ رچرڈ نے مشرقی یورپ میں چودہ سال اشتراکی قید خانوں میں گزارے تھے۔ وہاں اُسے متواتر سونے نہیں دیتے تھے، بھوکا رکھتے تھے، اُلٹا لٹکا کر مارتے پیٹتے تھے، یخ ٹھنڈی کوٹھری میں بند کر دیتے تھے، سرخ انگارا سلاخوں سے داغتے تھے اور چھریوں سے بدن کو کریدتے تھے۔ مَیں نے اپنی آنکھوں سے اُس کے بدن پر گہرے اور بدنما داغ دیکھے ہیں۔ رچرڈ کی بیوی کو بھی گرفتار کر کے جبری مشقت کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ اپنے شوہر کی طرح اُس کا جرم بھی "مجرمانہ سرگرمیاں'' تھا۔

ایک ملحد ریاست کے خلاف اُن کا جرم کیا تھا؟ وہ دوسرے لوگوں کو بائبل مقدس کی تعلیم دیتے ہوۓ پکڑے گۓ تھے۔

برادری سے خارج

  میرے دوست علی پر بڑی مصیبت آئ۔ اُس کے والد نے خاندان کے آدمیوں کا اجلاس بلایا۔ بڑے تایا موجود تھے اور چھوٹے بھائیوں کو بھی بلایا گیا۔ آخر میں پہلوٹھے بیٹے کو درمیان میں بٹھایا گیا۔

  علی کے والد نے غصے سے بھری ہوئ تقریر کی اور آخر میں کچھ یوں کہا، "تم نے ہمارے خاندان کی ناک کٹوا دی ہے! تم نے ہمارے مذہب سے دغا کی ہے! اِس گھر سے نکل جاؤ اور کبھی واپس نہ آنا۔ مَیں تمہاری شکل دیکھنے کا روادار نہیں۔''

  تایا نے مداخلت کرتے ہوۓ کہا، "ہاں اور اگر تم کل تک دفع نہ ہو گۓ تو مَیں تمہارا سامان گلی میں پھینک دوں گا۔''

اِتنا غصہ کیوں؟

تقریباً ایک سال تک بائبل مقدس پڑھنے کے بعد علی نے اُس کا یقین کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

زندہ کلام

  کیوں بائبل مقدس اِتنی متنازع کتاب ہے؟

  کس وجہ سے حکومتیں اِسے "ممنوع'' قرار دیتی ہیں۔ اِس کا یقین کرنے کے باعث والدین بچوں کو کیوں عاق کر دیتے ہیں؟ کیوں اُنہیں اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیتے ہیں؟

  کون سی بات لاکھوں توحید پرستوں کو آمادہ کرتی ہے کہ اِن قدیم صحیفوں کو حقیر اور مکروہ ماننے میں ملحدوں کی ہاں میں ہاں ملائیں؟

  بائبل مقدس کا دعوی' ہے کہ مَیں زندہ، موثر، بصیرت افروز، دل میں اُتر جانے والا اور مجرم ٹھہرانے والا خدا کا کلام ہوں۔ کیا مذکورہ بالا بدسلوکی میں اِس دعوے کا بھی کچھ عمل دخل ہے؟

"کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور موثر اور ہر ایک دودھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے''  (عبرانیوں 12:4)۔

بائبل مقدس پر قائم رہنا

مَیں، میری بیوی اور میرے بچوں نے جو اَب جوان ہو چکے ہیں پچھلے پچیس سالوں میں سے زیادہ عرصہ سینیگال، مغربی افریقہ میں گزارا ہے۔ ہمارے تقریباً سارے پڑوسی اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام کا مطلب ہے اطاعت کرنا (گردن جھکانا) یا تسلیم کرنا۔ اور مسلم کا مطلب ہے "مطیع یا اطاعت کرنے والا۔'' مسلمین جس کتاب کی تعظیم کرتے ہیں وہ ہے "قرآن مجید''۔ جو کچھ مَیں لکھ رہا ہوں وہ سینیگال اور دنیا بھر میں مسلم دوستوں کے ساتھ ذاتی طور پر ہزاروں مذاکرات کا نتیجہ ہے۔

  اگرچہ مَیں نے بائبل مقدس اور قرآن مجید دونوں کا مطالعہ کرنے میں بہت عرصہ صرف کیا ہے، مگر "ایک خدا، ایک پیغام'' میں بائبل مقدس ہی خاص توجہ کا مرکز ہو گی۔ کئ سال ہوۓ مَیں اور ایک سینیگالی دوست نے مل کر سینیگال کی وُولف زبان میں ایک سلسلہ وار ریڈیو پروگرام تشکیل دیا تھا جو بائبل مقدس کے سو واقعات پر مشتمل تھا۔ ہر پروگرام میں ایک واقعہ اور بائبل مقدس کے نبیوں سے پیغام نشر کیا جاتا تھا۔ بعض سامعین نے پوچھا ہے کہ آپ قرآن شریف کی بھی تعلیم کیوں نہیں دیتے۔ میرا جواب یہ ہے:

  اِس ملک میں بچے تین یا چار سال کی عمر میں قرآن شریف پڑھنا اور زبانی سنانا شروع کرتے ہیں۔ ہر گلی محلے میں قرآن مجید کے اُستاد اور مدرسے موجود ہیں۔ لیکن کون اِس لائق ہے اور تیار ہے کہ توریت، زبور یا انجیل میں مرقوم واقعات اور پیغام سناۓ؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں قرآن شریف بیان کرتا ہے کہ خدا نے بائبل مقدس کی یہ کتابیں کُل بنی نوع انسان کی " ہدایت اور روشنی۔۔۔ اور نصیحت (تنبیہ) (سورہ 5 آیت 46 ) کے لئے عطا کی ہیں۔ قرآن شریف یہ اعلان بھی کرتا ہے، "اگر تم کو اِس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں اُن سے پوچھ لو" (سورہ 10 آیت 94 )۔ اور جو لوگ بائبل مقدّس کو مانتے ہیں اُن سے قرآن شریف کہتا ہے "اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس قائم رہنے کی کوئی بنیاد نہیں تاوقت یہ کہ تم توریت، انجیل اور اُن سارے مکاشفات پر قائم ہو جو تمہارے رب سے تمہیں پہنچے ہیں" (سورہ 5 آیت 68 )۔

  سورہ 5 آیت 66 میں یوں مرقوم ہے "کاش اُنہوں (اہلِ کتاب) نے تورات اور انجیل اور دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس بھیجی گئ تھیں"۔ "ہم نے عیسی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتے تھے اور اُن کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے" (سورہ 5: 46 )۔

مَیں (راقم الحروف) بھی اہل کتاب میں سے ہوں اور تیس سالوں سے زیادہ ہو گۓ ہیں کہ "الکتاب'' (بائبل مقدس) کو پڑھتا رہا ہوں اور اُس پر قائم ہوں۔ اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ نبیوں کے اُن واقعات اور پیغام کی منادی کروں جو آپ نے شاید ہی کبھی سنا ہو۔ اِن صحائف میں سے بعض قرآن شریف سے دو  اڑھائی ہزار سال پہلے لکھے گۓ تھے۔ اِن میں وہ سچائی بیان کی گئی ہے جو کسی دوسری جگہ موجود نہیں۔

اُس کا بیان

  کیا آپ کے والدین نے آپ کو کبھی یہ نصیحت کی ہے "کسی اجنبی کا کبھی اعتبار نہ کرنا''؟ وہ جانتے تھے کہ کسی شخص کا اعتبار کرنے سے پہلے ضرور ہے کہ آپ اُسے اچھی طرح جانتے ہوں، ضرور ہے کہ آپ اُس کی تاریخ سے کسی حد تک واقف ہوں۔

  چند ایسے لوگوں کو یاد کریں جن پر آپ اعتماد رکھتے ہیں۔

آپ کیوں اُن کا اعتبار کرتے ہیں؟

  آپ اِس لۓ اُن کا اِعتبار کرتے ہیں کہ ایک عرصے تک اُن کے ساتھ تعلقات کے بعد آپ نے جان لیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ہیں۔ اُنہوں نے آپ کے ساتھ بُرائی نہیں بلکہ بھلائی کی۔ جب اُنہوں نے کہا کہ ہم یہ کام کریں گے، تو کیا۔ اُنہوں نے آپ کو کوئ چیز دینے کا وعدہ کیا، تو وہ چیز دی۔ آپ اُنہیں اِس لۓ قابلِ اعتماد مانتے ہیں کہ اُن کی تاریخ کو جانتے ہیں۔

  بائبل مقدس سینکڑوں واقعات کا بیان کرتی ہے جب خدا نے مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ باہمی تعلق قائم کیا اور اُن کے ساتھ عمل اور ردِعمل کیا۔ ہر ایک بیان بے مثال موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آسمان اور زمین کے خالق سے ملیں، اُس کی باتیں سنیں اور انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کے سیاق و سباق میں اُس کے کام دیکھیں۔ یہ خدا کس کی مانند ہے؟ ہاں، وہ بزرگ اور عظیم ہے۔ لیکن وہ کس طرح بزرگ اور عظیم ہے؟ کیا وہ بااُصول ہے؟ کیا وہ کبھی اپنے قوانین کے خلاف کچھ کرتا ہے؟ کیا وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے؟ کیا وہ ہمیں دھوکا دے گا؟ کیا وہ قابلِ اعتبار ہے؟

  اُس کی کہانی اِن سوالوں اور ہزاروں دوسرے سوالوں کا جواب دیتی ہے۔

  بائبل مقدس خدا کی تاریخ کی کتاب ہے جو نہ صرف انسانی تاریخ کی بڑی تصویر پیش کرتی ہے، بلکہ خود اُس کی تاریخ پیش کرتی ہے۔

بنیادی اور حتمی ڈرامہ

ہر شخص اچھی کہانی کو پسند کرتا ہے۔

  بائبل مقدس میں سینکڑوں کہانیاں ہیں جو سب مل کر ایک بڑی کہانی بن جاتی ہے۔ اور یہ کہانی بے مثال طور پر دلکش اور سحرانگیز ہے۔ خدا اور انسان کے بارے میں بائبل مقدس کا بیان اعلی' ترین اور حتمی ڈرامہ ہے __ محبت اور جنگ، نیکی اور بدی، جدوجہد اور کامیابی کی کہانی ہے۔ اِبتدا سے اِنتہا تک، آغاز سے اختتام تک یہ زندگی کے بڑے بڑے اور اہم سوالوں کے منطقی، معقول اور تسلی بخش جواب فراہم کرتی ہے۔ اِس کا نقطہ عروج اور نتیجہ خیز اختتام بے مثال ہیں۔

  چند سال ہوۓ سینیگال میں اپنے گھر پر مَیں مردوں اور عورتوں کے ایک گروہ کو خدا کی کہانی سنا رہا تھا۔ جب سنا چکا تو ایک خاتون کی آنکھوں میں آنسو بھر آۓ۔ وہ کہنے لگی، "کیا خوب کہانی ہے! لوگ خدا پر ایمان نہ بھی رکھیں تو بھی اُنہیں کم سے کم یہ تو مان لینا چاہئے کہ وہ ہر زمانے کا بہترین فلمی ڈرامہ نگار ہے!'' اُس خاتون نے ایک جھلک دیکھ لی تھی کہ یہ قدیم ترین ڈرامہ پیش کرنے میں پاک صحائف کا ایک ایک حصہ کیسا موزوں بیٹھتا ہے اور اِس ڈرامے میں خدا خود ہی مصنف اور ہیرو ہے۔

سب سے بڑا اور اہم پیغام

  بائبل مقدس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو کسی بھی بڑی سے بڑی، دلکش اور مسحور کن کہانی میں موجود ہو سکتا ہے۔ اِس کی کہانیوں اور واقعات میں خدا کی طرف سے ایک پیغام موجود ہے۔ یہ ہر زمانے کا وہ پیغام ہے جسے انسان ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

  کئ سالوں سے مَیں بائبل مقدس کے اِس پیغام کے بارے میں ہزاروں مسلمانوں سے تبادلہ خیال کرتا  آ رہا ہوں۔ اِن میں سے بہت سے میرے ذاتی دوست ہیں اور بہتوں کو مَیں ای میل کے وسیلے سے جانتا ہوں۔ دونوں صورتوں میں اِن مباحثوں کا خلاصہ ایک سوال میں پیش کیا جا سکتا ہے:

  واحد حقیقی خدا کا پیغام کیا ہے؟

ای میل سے ملنے والی معلومات

کئ طرح سے یہی سوال بار بار سامنے آتا ہے۔

مندرجہ ذیل ای میل مجھے مشرقِ وسطی' سے موصول ہوئ۔ بھیجنے والے صاحب کو ہم "احمد'' کا نام دے لیتے ہیں۔

email

  "ہیلو! یسوع مسیحِ موعود کی حیثیت سے تشریف لاۓ اور مَیں اِس بات پر ایمان رکھتا ہوں، لیکن اُنہوں نے کبھی نہیں کہا کہ مَیں خدا ہوں۔ وہ حضرت محمد (صلعم)[2] سے پہلے خدا کے پاس جانے کا راستہ / وسیلہ تھے، لیکن اِس کے بعد سارے مسیحیوں کو مسلمان ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ جب اِس دنیا کے خاتمے کے بعد مسیح واپس آئیں گے تو وہ آپ کے نئے عہدنامے کے مطابق نہیں بلکہ قرآن شریف کے مطابق حکمرانی کریں گے۔

  مسیح کو ہرگز مصلوب نہیں کیا گیا۔ اگر آپ معقول بات کریں اور مان بھی لیا جائے کہ یسوع واقعی مصلوب ہوۓ تھے تو بھی اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اِس کی وجہ سے لوگوں کے گناہ مٹ گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بالکل نامعقول اور لغو بات ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ مجھ سے کہیں کہ خدا نے اپنے پیارے، اکلوتے، بے مثال بیٹے کو قربان کر دیا تو مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ خدا ایسا قادر نہیں کہ لوگوں سے کہہ دے کہ مَیں تمہارے گناہ مٹا دینا چاہتا ہوں اور مجھے اپنے 'پیارے بیٹے' کو ایذا دینے اور قربان کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں؟؟؟ یہ سارے گنہگاروں کا معاملہ میرے نزدیک بے معنی ہے۔

  صرف اسلام ہی کامل مذہب ہے جو اِس دنیا پر بھیجا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں سوچتا ہوں کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے بھیجا جانے والا آخری مذہب ہے۔ یہ واحد مذہب ہے جس میں زندگی کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ یہ آپ کے لئے اندازہ لگانے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا کہ کسی معاملے میں خدا کی کیا راۓ ہو گی۔

  قرآن شریف سب سے بڑا معجزہ ہے جو کبھی کسی نبی پر اُتارا گیا۔ ٹھیک ہے! آپ صرف ایک آیت وضع کر کے دکھائیں جو قرآن شریف کی آیات کے ہم پلہ یا اِس کے قریب ہو! آپ اعلی' ترین درجے کی عربی زبان بے تکلف بول سکتے ہوں تو بھی ایسا نہ کر سکیں گے ۔۔۔ اِس کے علاوہ آپ کی بائبل میں __ یعنی اصل اور غیر محرف بائبل میں حضرت محمد (صلعم) کی آمد کے بارے میں پیش گوئیاں بھی موجود ہیں۔

  مَیں یقین رکھتا اور جانتا ہوں کہ فی الوقت بائبل جعلی اور محرف ہے کیونکہ اِس کی کتابوں میں رد و بدل کۓ گۓ ہیں۔

  دوست! آپ کی معلومات کے لۓ مَیں بتاتا ہوں کہ مَیں نے نیا عہدنامہ پڑھا ہے اِس لۓ نہیں کہ مجھے سچائ کی تلاش ہے بلکہ اپنی ذاتی دلچسپی کے باعث پڑھا ہے، اور ایک نہیں بلکہ دو دفعہ پڑھا ہے اور مَیں نے دیکھا ہے کہ اِس میں ہرگز کوئ ایسی بات نہیں جو عظمت میں قرآن شریف کو چھو بھی سکتی ہو کیونکہ قرآن شریف واقعی خدا کا کلام ہے جو فرشتے کے وسیلے سے محمد (صلعم) کو بھیجا گیا۔ اگر آپ اِس کے برعکس کچھ ثابت کر سکتے ہیں تو کریں۔

     آپ کی سلامتی ہو

    احمد

احمد کے چیلنج اور تبصرے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

  ہمارا خالق ایسے معاملات کو بے وقعت نہیں سمجھتا، اور ہمیں بھی اِنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ نبیوں کے قدیم صحیفوں میں خدا نے احمد کی طرف سے اُٹھاۓ گۓ ہر مسئلے کے واضح اور صاف جواب فراہم کۓ ہیں کیونکہ ہر مسئلہ ازلی و ابدی اہمیت کے سوال سے تعلق رکھتا ہے۔

  واحد حقیقی خدا کا پیغام کیا ہے؟

  ایوب نبی نے بھی چند ایسے ہی سوال اُٹھاۓ تھے

  "حکمت کہاں ملے گی؟'' (ایوب 28 :12)۔

  "انسان خدا کے حضور کیسے راست باز ٹھہرے؟''  (ایوب 2:9)

سفر

  اِس پریشان خیال میں دُنیا ہزاروں متضاد جواب یا ردِعمل ملتے ہیں۔ میرا مقصد اِس کھچڑی میں اپنے خیالات و نظریات کا اضافہ کرنا نہیں، بلکہ مَیں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ دل اور دماغ کے ساتھ اعلی' ترین کتاب، کتاب الکتب کے سفر میں میرے ساتھ شامل ہو جائیں اور زندگی کے بنیادی اور اہم سوالوں کے جواب تلاش کریں جو اِس میں موجود ہیں۔ ہم اکٹھے سفر کرتے ہوۓ دیکھیں گے کہ اِن صحیفوں کے مطابق سچ کیا ہے اور احمد اور دوسرے لوگوں کی طرف سے اُٹھاۓ گۓ چیلنجوں کے بارے میں نبیوں کے جوابات پر غور کریں گے۔

  اِبتدائی تعارفی باتوں (حصہ اوّل۔ باب 1 تا 7 ) کے بعد ہمارا سفر وہاں سے شروع ہو گا جہاں سے بائبل مقدس شروع ہوتی ہے، یعنی دنیا کی تاریخ کے آغاز سے۔ وہاں سے ہم وقت میں سے گزرتے ہوۓ ابدیت میں داخل ہوں گے (حصہ دوم و سوم، باب 8 تا 30)۔

  اور سفر کا اختتام خود جنت کو دیکھنے کے بعد ہو گا۔

سفر کے انداز

ہم کہہ سکتے ہیں کہ "ایک خدا، ایک پیغام'' ایک کتاب نہیں بلکہ تین کتابوں کا مجموعہ ہے۔ حصہ اوّل میں اُن رکاوٹوں کا ذکر ہے جن کے باعث بہت سے لوگ بائبل مقدس کا مطالعہ نہیں کرتے۔ حصہ دوم میں عمدہ ترین کہانی کے مرکزی اور اہم پیغام پر سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ حصہ سوم میں پس پردہ جا کر بنی نوع انسان کے لۓ خدا کے تعجب انگیز اور رعب دار مقاصد پر گہری نظر ڈالی گئ ہے۔

  بہت سے ہم سفروں کو پہلا حصہ سفر کی تیاری کرنے کے لۓ نہایت فائدہ مند معلوم ہو گا۔ تو بھی اگر آپ پہلے ہی مانتے ہیں کہ نبیوں کے صحائف معتبر یعنی قابل اعتبار ہیں، یا آپ کو مزید تاخیر کے بغیر خدا کا بیان سننے اور اُس کے پیغام کو سمجھنے کی آرزو ہے تو آپ حصہ اوّل کو چھوڑ کر فوراً حصہ دوم پر چلے جائیں اور سارا سفر طے کر لینے کے بعد حصہ اوّل کی طرف لوٹیں۔

  اگر آپ آہستہ رَوی سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ کتاب کے تیس ابواب کو مہینہ بھر پر پھیلا سکتے ہیں اور ہر روز ایک باب پر غور و فکر کر سکتے ہیں۔

  اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ یہ زیارتی سفر رمضان کے تیس دنوں میں کر سکتے ہیں۔ آپ کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ قرآن شریف کہتا ہے کہ "دین کے معاملے میں کوئی زور یا زبردستی نہیں ہے''۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے "۔۔۔مسلمانو، کہو  کہ : ہم ایمان لائے اللہ پر اور اُس کی ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی۔ اور جو موسی اور عیسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں" (سورہ 2 آیت 256 اور  136)۔

  آپ کوئ سا راستہ بھی اختیار کریں ہم آپ کو سفر کا ایک اہم گُر بتاتے ہیں __ یہ سفر شروع کر لیا تو اِس کا کوئ حصہ نہ چھوڑنا۔

ہر نیا صفحہ پچھلے صفحے پر عمارت اُٹھاتا چلا جاتا ہے۔ آپ جو کچھ دیکھتے ہیں فوری طور پر اُسے پوری طرح نہ بھی سمجھیں تو بھی آخری صفحے تک پڑھیں اور اِس دوران غور کرتے رہیں۔ سفر کے بعض حصے عجیب اور چیلنج کرنے والے ہوں گے، لیکن راستے میں تازگی کے نخلستان بھی آئیں گے۔ کتنی بھی رکاوٹیں حائل ہوں سفر جاری رکھیں۔

سچائ

  اِس دنیا میں بے شمار لوگوں کی پختہ راۓ ہے کہ کوئ بھی نہیں جان سکتا کہ زندگی کے بڑے بڑے سوالوں کے بارے میں سچ یا جھوٹ کیا ہے، مثلاً انسانی نسل کہاں شروع ہوئ؟ مَیں اِس دنیا میں کیوں ہوں؟ میرا انجام کیا ہو گا؟ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے؟

  آج کل مغرب میں اِس قسم کے بیان کا رواج سا ہو گیا ہے کہ "ہر بات اضافی ہے یعنی کسی دوسری بات سے نسبت رکھتی ہے۔'' یا "یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کوئ شخص کامل سچائ کو جان سکتا ہے۔'' ایسے بیانات کی خود اپنی تردید کرنے کی نوعیت کو سمجھنے کے لۓ کسی کو منطق میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ اگر کامل سچائ ہے ہی نہیں تو ایسے نظریہ کو ماننے والے "ہر بات'' کے بارے میں اثباتی دعوے کیسے کر سکتے ہیں یا کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئ بات "غلط'' ہے؟

  شکر ہے کہ کائنات کا خالق جس نے زندگی کو تبدیل کرنے والی سچائ انسانوں پر ظاہر کر دی ہے وہ اِس راۓ کے ساتھ متفق نہیں۔ جو سچے دل سے اُس کی تلاش کرتے ہیں وہ اُن سے کہتا ہے:

  "تم سچائ سے واقف ہو گے اور سچائ تم کو آزاد کرے گی'' (یوحنا 32:8)۔

درست انتخاب/ فیصلہ

  چند سال ہوۓ میرے 79 سالہ بزرگ پڑوسی موسی' نے درخواست کی کہ مَیں ہفتے میں تین بار اُس کے گھر جا کر بائبل مقدس پڑھ کر سنایا کروں۔ وہ کمزوری اور خراب صحت کی وجہ سے کہیں آ جا نہیں سکتا تھا۔ موسی' ساری عمر قرآن شریف کا مطالعہ کرتا رہا تھا۔ لیکن اُس نے موسی' کی توریت، داؤد کے مزامیر اور یسوع کی انجیل کے بارے میں کبھی غور نہیں کیا تھا۔ یہ کتابیں ہیں جن کے بارے میں قرآن شریف سارے مسلمانوں کو تاکیدی نصیحت کرتا ہے کہ اُنہیں قبول کریں اور اُن پر ایمان رکھیں[3]۔

  مَیں اہم واقعات اور بیانات کو تاریخی ترتیب کے مطابق پڑھ کر سناتا تھا اور موسی' بڑے دھیان سے سنتا تھا۔ اُس نے جان لیا کہ سب کا خالق اور منصف ناپاک گنہگاروں کو کیسے راست باز ٹھہرا سکتا ہے۔ موسی' نے کئ بار بتایا کہ "ہم نے جن باتوں کا مطالعہ کیا ہے مَیں اُن کے بارے میں فقط سوچتا ہی نہیں بلکہ اُن پر مسلسل غور کرتا ہوں!''

  ایک دن پاک کلام میں ظاہر کی گئ ایک اَور سچائ سیکھنے کے بعد موسی' نے پاس ہی بیٹھی ہوئ اپنی بیوی اور بیٹی سے بڑی مایوسی سے کہا، "ہمیں کسی نے یہ باتیں کیوں نہ سکھائیں!''

  جب موسی' کے پڑوسیوں کو معلوم ہوا کہ موسی' ایک غیر ملکی شخص سے بائبل مقدس کا مطالعہ کر رہا ہے تو طرح طرح کی باتیں شروع ہو گئیں۔ دباؤ اِتنا بڑھ گیا کہ میرے اُس عمر رسیدہ دوست نے مجھ سے کہا کہ کچھ عرصے تک ہمارے گھر آنا بند کر دیں۔ اُس نے وضاحت کی کہ "مَیں سچائ کو رد نہیں کر رہا، لیکن میرے خاندان پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔''

  کوئ چھے ہفتوں تک انتظار کرنے کے بعد (تاکہ مخالف باتیں ٹھنڈی پڑ جائیں) مَیں اور میری اہلیہ پھر موسی' اور اُس کے خاندان سے ملنے گۓ۔ اُس نے ہمارا پُر تپاک استقبال کیا اور چند سوال پوچھے جن پر اُس نے خوب غور کیا تھا۔ ہمارے رُخصت ہونے سے پہلے اُس نے کہا "اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ مرنے سے پہلے مَیں درست اِنتخاب کر لوں۔''

موسی' نے جان اور سمجھ لیا تھا کہ یہ قول کتنا اِہم ہے کہ "سچائ کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال'' (امثال 23:23 )[4]۔

  اِس کے چار ماہ بعد ہمارا یہ پیارا دوست اِنتقال کر گیا۔

  اکٹھے گزارے ہوۓ وقتوں کو یاد کرتے ہوۓ مَیں موسی' کے جواب کو کبھی نہیں بھول سکتا جو اُس نے میرے اِس سوال پر دیا "موسی'، اگر آج رات تم رِحلت کر جاؤ تو تمہاری ابدیت کہاں گزرے گی؟''

  تھوڑی سی ہچکچاہٹ  کے بعد اُس نے جواب دیا "مَیں تو جنت میں جاؤں گا۔''

  مَیں نے پوچھا "تم یہ کیسے جانتے ہو؟''

اُس نے بائبل مقدس کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑتے ہوۓ جواب دیا، "کیونکہ مَیں اِس پر ایمان رکھتا ہوں!'"

وعدہ

مَیں انکشاف کا یہ سفر اُن کے نام منسوب کرتا ہوں جو موسی" کی طرح مرنے سے پہلے درست انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ واحد حقیقی خدا آپ کا ہاتھ پکڑ کر ساری رُکاوٹوں پر غالب آنے میں مدد کرے اور اپنی ذات کی اور جو کچھ اُس نے آپ کے لئے کیا ہے اُس کی بالکل صحیح اور  واضح سمجھ تک پہنچاۓ۔

  ""تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔ جب پورے دل سے میرے طالب ہو گے'' (یرمیاہ 13:29)۔

یہ ہے آپ کے ساتھ خدا کا وعدہ۔



[1]  میرے ملک کو "مسیحی قوم یا مسیحی ملک'' کہنا درست نہیں کیونکہ یسوع مسیح نے فرمایا کہ "میری بادشاہی اِس دنیا کی نہیں۔ اگر میری بادشاہی دنیا کی ہوتی تو میرے خادم لڑتے تاکہ مَیں یہودیوں کے حوالہ نہ کیا جاتا۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں''(یوحنا 18 :36)۔

[2]  یہ صلی اللہ علیہ وسلم'' کا مخفف ہے۔ یہ کلمہ دعا ہے جو اِسلام کے نبی کے حق میں کہا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے آپ صلعم پر اللہ کی رحمتیں/ برکتیں ہوں۔ مسلمان اپنے نبی کا نام لکھیں تو اُس پر یہ علامت (ص) لکھتے ہیں اور بولیں تو ساتھ یہ کلمہ ضرور بولتے ہیں۔ اِس رواج کی بنیاد قرآن شریف کی اِس آیت پر ہے "اللہ اور اُس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجو" (سورۃ 33آیت56 )

اِس کلمہ کا استعمال بائبل مقدس سے موافقت نہیں رکھتا جو کہتی ہے "--- آدمیوں کے لۓ ایک بار مرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے'' (عبرانیوں9: 27)۔ مرنے کے بعد ہر انسان کا ابدی انجام یعنی عاقبت بے تبدیل طور پر متعین ہو جاتی ہے۔ کتنی بھی دعائیں ہوں وہ اِس بات کو تبدیل نہیں کر سکتیں کہ کوئ شخص ابدیت کہاں اور کیسے گزارے گا (مکاشفہ 11:22 )۔

[3] مثال کے طور پر قرآن شریف سورۃ 40 آیات 70۔72 میں کہتا ہے "جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اُس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کر لیں گے جب کہ  اُن کی گردنوں میں طوق  اور زنجیریں ہوں گی۔ (یعنی) کھولتے ہوئے پانی میں، پھر  آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔" اور یہ بھی کہتا ہے  "اور اِن پیغمبروں کے بعد اِنہی کے قدموں پر ہم نے عیسی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتے تھے اور اُن کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اور تورات کی جو اِس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔ اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے" (سورہ 5 آیت 46 )۔  اور یہ بھی کہ "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اُس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اُس کے ملائکہ اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیاوہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دُور نکل گیا" (سورہ 4 آیت 136)۔ "اے نبی ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب، عیسی، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی۔ ہم نے داؤد کو زبور دی" (سورہ 4 آیت 163 )۔ قرآن شریف کے ایسے مزید بیانات کے لئے باب 3 کا پہلا صفحہ اور اُس کے حواشی ملاحظہ کریں۔

[4] سچائ کو "مول لینے" کے بجاۓ بہت سے لوگ اِسے "بیچ ڈالتے'' ہیں کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ ہمارا خاندان اور ہمارے دوست ہمیں بائبل مقدس کا مطالعہ کرتے ہوۓ دیکھیں گے تو ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے، حالانکہ بائبل مقدس دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے اور قرآن شریف مسلمانوں کو حکم بھی دیتا ہے کہ اِس پر ایمان لاؤ۔)

 

 
دیباچہ
 

ایک دیہاتی ایلڈر نے میرے دوست سے کہا، "اپنے نیک کاموں کی وجہ سے آپ بہشت میں جانے کے حق دار ہیں۔ لیکن جیسے پیغام کی آپ منادی کرتے ہیں اُس کی وجہ سے آپ دوزخ میں جانے کے لائق ہیں۔"

یہ گاؤں صحراۓ اعظم کے ایک سرے پر واقع ہے۔ میرے دوست اور اُن کی اہلیہ نے وہاں دس سال گزارے تھے۔ وہاں اُنہوں نے آب پاشی کا ایک منصوبہ مکمل کیا اور ایک شفاخانہ قائم کیا تھا۔ جو کوئ سننے پر آمادہ ہوتا وہ اُسے نبیوں کا پیغام بھی سنایا کرتے تھے۔

اُس دیہاتی ایلڈر کے مطابق "جنت میں جانے کا حق دار ہونے کے لۓ" میرے دوست نے کیا کیا تھا؟ اُس نے "نیک کام'' کۓ تھے۔

اور "دوزخ میں جانے کے لائق'' ہونے کے لۓ اُس نے کیا کیا تھا؟ وہ بائبل مقدس کے مطابق نبیوں کے پیغام سنایا کرتا تھا۔

کیا وہ دیہاتی ایلڈر میرے دوست کے کاموں اور پیغام پر فیصلہ دینے میں حق بجانب تھا؟ کیا وہ آدھا حق بجانب تھا؟ کیا وہ پورے طور پر غلط تھا؟

اگر آپ نہیں جانتے کہ کیا سوچیں تو یہ کتاب آپ کے لۓ ہے۔

کہاں

میں امریکہ میں پیدا ہوا، لیکن یہ کتاب افریقہ میں وجود میں آئ۔

مقام: مغربی افریقہ میں سینیگال کے مغرب میں صحراۓ اعظم کے جنوبی کنارے پر Sahell نامی علاقہ۔ یہ نیم بارانی افریقہ کے صحراۓ اعظم اور منطقہ حارہ کے جنگلات کے درمیان واقع ہے اور سینیگال سے مصر تک پھیلا ہوا ہے۔

ماحول اور منظر: فجر کی اذان ہو چکی ہے۔ ریتلے اُفق پر کانٹے دار درختوں کے پیچھے صبح کی سُرخی مائل زرد پہلی کرنیں جھلملا رہی ہیں۔ ہوا میں مزیدار ٹھنڈک ہے۔ لیکن یہ سب کچھ تھوڑی ہی دیر میں بدل جاۓ گا۔ مِیں اپنا ذاتی کمپیوٹر (Laptop) لۓ اُس دیہاتی گھر کے برآمدے میں بیٹھا ہوں۔ اُس پر لگا ہوا شفاف پلاسٹک اُس کے کی بورڈ (Keyboard) کو صحراۓ اعظم کی ہوا میں شامل ریت سے بچاۓ رکھتا ہے۔ گاؤں ابھی تک خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ البتہ کبھی کبھی کسی گدھے کی ڈھینچوں ڈھینچوں یا کسی کوے کی کائیں کائیں یا کسی مرغ کی ککڑوں کوں کی آواز سنائ دیتی ہے۔ مجھے جو ایک آواز سنائ دے رہی ہے وہ کی بورڈ پر اُنگلیاں چلانے کی ٹُک ٹُک ہے۔ اِ س سے خیالات الفاظ میں اور الفاظ مضمون میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

کیوں

میں اِس لۓ لکھتا ہوں کہ جس ہستی نے مجھے زندگی، خوشی، راحت اور مقصد عطا کیا ہے اُس نے مجھے لکھنے کو بھی کچھ سونپا ہے۔

میں ایسے دل سے لکھتا ہوں جو میرے مسلم دوستوں کی عزت اور محبت سے بھرا ہے۔ مجھے سینیگال کے مسلم دوستوں سے خاص محبت ہے۔ کیونکہ یہاں مَیں اور میری اہلیہ نے اپنے  تین بچوں کو پالا پوسا ہے اور زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے۔

مَیں اِس لۓ لکھتا ہوں کہ حالیہ سالوں میں مجھے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ہزاروں ای میل موصول ہوئ ہیں۔ اُن کے فکرانگیز تبصروں اور سوالوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مَیں اِس لۓ لکھتا ہوں کہ مجھے اُن بیزار اور تھکے ماندہ مذہبی راہنماؤں سے ہمدردی ہے جو لگی بندھی باتوں کے سِوا کچھ پیش نہیں کرتے، مثلاً "بائبل مقدس سچی ہے کیونکہ خود کہتی ہے۔'' یا "قرآن مجید سچا ہے کیونکہ کوئ بھی ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔''

مَیں اِس لۓ لکھتا ہوں کیونکہ مَیں انسانی دل و دماغ کے اِس رُجحان سے متاثر ہوں کہ وہ خداۓ برحق کے بے تبدیل پیغام کے سوا ہر بات کا یقین کر لیتا ہے۔

کیا

"ایک خدا، ایک پیغام'' نے وہ موقع فراہم کیا ہے جو زندگی میں دوبارہ نہیں ملے گا، کہ آپ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کا غور سے مطالعہ کریں اور نبیوں کے اُس پیغام کو دریافت کریں جنہوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ جو لوگ اس زیارتی سفر میں شامل ہوں گے اُنہیں بے شمار رکاوٹوں کو عبور کرنے کا موقع ملے گا (حصہ اوّل) اور وہ پُراسرار علاقوں میں داخل ہوں گے (حصہ دوم) اور اُس شاندار بادشاہی میں جا پہنچیں گے جس میں چاروں طرف دلکش اور عالی شان مناظر دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں، اور تسکین بخش سچائ سے دوچار ہوں گے (حصہ سوم)۔

کون

بنیادی طور پر یہ سفر توحید پرستوں یعنی خدا کو ایک ماننے والوں کے لۓ مرتب کیا گیا ہے۔ مگر ہم کثرت پرستوں [١] ، کائنات پرستوں، انسان پرستوں اور الحاد پرستوں کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ مہم جوئ ہر اُس شخص کے لۓ ہے جو سمجھتا ہے کہ میری ابدیت یا ابدی زندگی کے مقابل بارہ گھنٹے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ اِس کتاب کو بلند آواز سے پڑھنے میں تقریباً اِتنا ہی وقت درکار ہے۔

آپ کا پس منظر کچھ بھی ہو، آپ کیا اعتقاد رکھتے یا نہیں رکھتے، آپ کا عقیدہ کچھ بھی ہو، ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ بائبل مقدس میں سے گزرنے کے اِس مہم جویانہ سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔ یہ وہی بائبل مقدس ہے جس کی تعظیم کرنے کے دعوے دار تو بہت سے ہیں، لیکن اِس پر غور و خوض کرنے والے تھوڑے ہیں۔

تین ہزار سال پہلے ایک نبی نے اِس کائنات کے خالق اور مالک کے حضور یہ دعا مانگی تھی، "میری آنکھیں کھول دے تاکہ مَیں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں'' (زبور ١١٩: ١٨)۔

ہم جو کچھ دیکھتے ہیں اُن ساری باتوں کو پسند نہ بھی کریں، مگر دیکھنا تو بند نہ کریں۔

آپ کا ہم سفر زائر

پی۔ڈی۔ برامسن


١. بالترتیب : بہت سے خداؤں (دیوتاؤں اور دیویوں) کو ماننے والے،کائنات کی ہر شے کو خدا ماننے والے، اِنسان کو خدا ماننے والے، خدا کے وجود کا انکار کرنے والے (دہریئے/ ملحد)۔

١
سچائ کو خرید لو
“سچائ کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال، حکمت اور تربیت اور فہم کو بھی ”
(سلیمان نبی — اَمثال ٢٣: ٢٣)

تصور کریں کہ آپ ایک پُرہجوم منڈی میں چل پھر رہے ہیں۔ وہاں اربوں لوگوں کی بھیڑ بھاڑ ہے __ہاں اربوں لوگوں کا جمگھٹا ہے۔

حدِنظر سے آگے تک ہزاروں دُکانیں اور سٹال ہیں۔ مال بیچنے والے چاروں طرف سے بڑے زور اور جوش سے ہانکیں لگا رہے ہیں، پکار رہے ہیں، خریداروں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، اپنے مال کی خوبیاں بتا رہے ہیں، مِنتیں کر رہے ہیں __ بعض نرمی سے اور بعض لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے۔ ہر کوئ دعوی' کر رہا ہے کہ میرے پاس بالکل وہی چیز ہے جو آپ خریدنے آۓ ہیں:

سچائ

ہنسیے نہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ایک قاموس (تفصیلی معلومات کی کتاب) شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دس ہزار مذاہب ہیں۔ اِن میں وہ ہزاروں مسلک اور فرقے اور مکاتبِ فکر شامل نہیں جو اِن مذہبوں کے اندر موجود ہیں۔

تو ہم کیا خریدیں؟ کیا مول لیں؟ کس کا یقین کریں؟

اگر سچا خدا صرف ایک ہی ہے اور اگر اُس نے اپنا آپ اور بنی نوع انسان کے لۓ اپنا منصوبہ ظاہر کر دیا ہے تو ہم اُسے کیسے جان اور پہچان سکتے ہیں؟

چار ہزار سال ہوۓ ایوب نبی نے بھی یہی سوال اُٹھایا تھا۔

"لیکن حکمت کہاں ملے گی؟ اور خرد کی جگہ کہاں ہے؟ نہ انسان اُس کی قدر جانتا ہے، نہ وہ زندوں کی سرزمین میں ملتی ہے۔۔۔ نہ وہ سونے کے بدلے مل سکتی ہے، نہ چاندی اُس کی قیمت کے لۓ تُلے گی۔۔۔ بلکہ حکمت کی قیمت مرجان سے بڑھ کر ہے'' (ایوب ٢٨ : ١٢، ١٣، ١٨ ) ۔

کیا لازم ہے کہ ہم زندگی بھر اُلجھن اور بے یقینی کا شکار رہیں؟ یا کیا ہم واحد حقیقی خدا کی حکمت اور سچائ کو جان سکتے ہیں؟

ہمیں ابھی معلوم ہو جاۓ گا۔

افضل ترین کتاب

لفظ "بائبل" یونانی لفظ "بِبلیا'' (Biblia ) سے مشتق ہے، جس کا مطلب ہے "کتابوں کی کتاب" یا کتب خانہ (لائبریری) ۔

دو ہزار سالوں سے زیادہ عرصے تک آدم، نوح اور ابرہام جیسے انسانوں کی معرفت زبانی کلام کرنے اور پیغام دینے کے بعد خدا نے تقریباً چالیس آدمیوں کے وسیلے سے اور  پندرہ صدیوں سے زیادہ عرصے میں اپنا پیغام تحریر کرایا۔ اِن پیغام لانے والوں کو نبی یا رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔ لفظ نبی کے لغوی معنی ہیں "بولنے والا''۔ اور ''رسول'' کے لغوی معنی ہیں "بھیجا ہوا'' اور پیغمبر کے لغوی معنی ہیں "پیغام لانے والا''۔ جو کچھ اُنہوں نے لکھا آج وہ ہمارے پاس ایک جِلد میں موجود ہے، جسے ہم "بائبل'' کہتےہیں۔ بائبل مقدس کے لۓ پاک صحائف، نبیوں کے صحائف اور خدا کا کلام کی تراکیب بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ توریت، زبور اور انجیل کے الفاظ بائبل مقدس میں مختلف حصوں کے ںام ہیں۔ عربی زبان میں اِن صحائف کو "الکتاب المقدس'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے پاک یا مقدس کتاب۔

ہر صدی اور ہر سال کے دوران بائبل مقدس دنیا بھر میں کسی بھی کتاب کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد میں بکنے والی کتاب ہے۔ آج تک بائبل مقدس کے صحائف کا ٢٤٠٠ سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ١٩٤٠ زبانوں میں ترجمہ ہو رہا ہے۔ کوئ دوسری کتاب اِس کے قریب نہیں پہنچ سکی۔

ورلڈ کرسچن انسائکلو پیڈیا (شائع کردہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، لندن ٢٠٠١ ء) کے مطابق پاک صحائف کم سے کم ٢٤٠٣ زبانوں میں دستیاب ہیں اور مکمل بائبل مقدس کا ترجمہ ٤٢٦ زبانوں میں اور مکمل نئے عہدنامے کا ترجمہ ١١١٥ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اِن کے علاوہ بائبل مقدس کے کئ حصے دیگر ٨٦٢ زبانوں میں دستیاب ہیں (متحدہ بائبل سوسائٹیز کی رپورٹ ٢٠٠٧ ء)۔

اپنی بے مثال مقبولیت کے باوجود انسانی تاریخ میں یہ وہ کتاب ہے جس کی سب سے زیادہ تحقیر کی جاتی ہے اور جس سے لوگ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ صدیوں سے حکومتیں اور مذہبی اور دنیاوی راہنما ہر زمانے میں سب سے زیادہ بِکنے والی اِس کتاب کو غیرقانونی، ظالم اور ستمگر قرار دیتے آۓ ہیں اور اِسے اپنے پاس رکھنے والے شہریوں کو قتل کرتے رہے ہیں۔ آج بھی کئ قومیں اِسی پالیسی کو نافذ کئے ہوۓ ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مبینہ "مسیحی'' ملکوں [ ١ ] میں بھی سرکاری سکولوں اور اداروں میں یہ کتاب "ممنوع'' ہے۔

ایذائیں دی گئیں

ابھی میرا لڑکپن تھا۔ میرے والد رچرڈ کے دوست تھے۔ رچرڈ نے مشرقی یورپ میں چودہ سال اشتراکی قید خانوں میں گزارے تھے۔ وہاں اُسے متواتر سونے نہیں دیتے تھے، بھوکا رکھتے تھے، اُلٹا لٹکا کر مارتے پیٹتے تھے، یخ ٹھنڈی کوٹھری میں بند کر دیتے تھے، سرخ انگارا سلاخوں سے داغتے تھے اور چھریوں سے بدن کو کریدتے تھے۔ مَیں نے اپنی آنکھوں سے اُس کے بدن پر گہرے اور بدنما داغ دیکھے ہیں۔ رچرڈ کی بیوی کو بھی گرفتار کر کے جبری مشقت کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ اپنے شوہر کی طرح اُس کا جرم بھی "مجرمانہ سرگرمیاں'' تھا۔

ایک ملحد ریاست کے خلاف اُن کا جرم کیا تھا؟ وہ دوسرے لوگوں کو بائبل مقدس کی تعلیم دیتے ہوۓ پکڑے گۓ تھے۔

برادری سے خارج

میرے دوست علی پر بڑی مصیبت آئ۔ اُس کے والد نے خاندان کے آدمیوں کا اجلاس بلایا۔ بڑے تایا موجود تھے اور چھوٹے بھائیوں کو بھی بلایا گیا۔ آخر میں پہلوٹھے بیٹے کو درمیان میں بٹھایا گیا۔

علی کے والد نے غصے سے بھری ہوئ تقریر کی اور آخر میں کچھ یوں کہا، "تم نے ہمارے خاندان کی ناک کٹوا دی ہے! تم نے ہمارے مذہب سے دغا کی ہے! اِس گھر سے نکل جاؤ اور کبھی واپس نہ آنا۔ مَیں تمہاری شکل دیکھنے کا روادار نہیں۔''

تایا نے مداخلت کرتے ہوۓ کہا، "ہاں اور اگر تم کل تک دفع نہ ہو گۓ تو مَیں تمہارا سامان گلی میں پھینک دوں گا۔''

اِتنا غصہ کیوں؟

تقریباً ایک سال تک بائبل مقدس پڑھنے کے بعد علی نے اُس کا یقین کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

زندہ کلام

کیوں بائبل مقدس اِتنی متنازع کتاب ہے؟

کس وجہ سے حکومتیں اِسے "ممنوع'' قرار دیتی ہیں۔ اِس کا یقین کرنے کے باعث والدین بچوں کو کیوں عاق کر دیتے ہیں؟ کیوں اُنہیں اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیتے ہیں؟

کون سی بات لاکھوں توحید پرستوں کو آمادہ کرتی ہے کہ اِن قدیم صحیفوں کو حقیر اور مکروہ ماننے میں ملحدوں کی ہاں میں ہاں ملائیں؟

بائبل مقدس کا دعوی' ہے کہ مَیں زندہ، موثر، بصیرت افروز، دل میں اُتر جانے والا اور مجرم ٹھہرانے والا خدا کا کلام ہوں۔ کیا مذکورہ بالا بدسلوکی میں اِس دعوے کا بھی کچھ عمل دخل ہے؟

"کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور موثر اور ہر ایک دودھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے''  (عبرانیوں ١٢:٤)۔

بائبل مقدس پر قائم رہنا

مَیں، میری بیوی اور میرے بچوں نے جو اَب جوان ہو چکے ہیں پچھلے پچیس سالوں میں سے زیادہ عرصہ سینیگال، مغربی افریقہ میں گزارا ہے۔ ہمارے تقریباً سارے پڑوسی اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام کا مطلب ہے اطاعت کرنا (گردن جھکانا) یا تسلیم کرنا۔ اور مسلم کا مطلب ہے "مطیع یا اطاعت کرنے والا۔'' مسلمین جس کتاب کی تعظیم کرتے ہیں وہ ہے "قرآن مجید''۔ جو کچھ مَیں لکھ رہا ہوں وہ سینیگال اور دنیا بھر میں مسلم دوستوں کے ساتھ ذاتی طور پر ہزاروں مذاکرات کا نتیجہ ہے۔

اگرچہ مَیں نے بائبل مقدس اور قرآن مجید دونوں کا مطالعہ کرنے میں بہت عرصہ صرف کیا ہے، مگر "ایک خدا، ایک پیغام'' میں بائبل مقدس ہی خاص توجہ کا مرکز ہو گی۔ کئ سال ہوۓ مَیں اور ایک سینیگالی دوست نے مل کر سینیگال کی وُولف زبان میں ایک سلسلہ وار ریڈیو پروگرام تشکیل دیا تھا جو بائبل مقدس کے سو واقعات پر مشتمل تھا۔ ہر پروگرام میں ایک واقعہ اور بائبل مقدس کے نبیوں سے پیغام نشر کیا جاتا تھا۔ بعض سامعین نے پوچھا ہے کہ آپ قرآن شریف کی بھی تعلیم کیوں نہیں دیتے۔ میرا جواب یہ ہے:

اِس ملک میں بچے تین یا چار سال کی عمر میں قرآن شریف پڑھنا اور زبانی سنانا شروع کرتے ہیں۔ ہر گلی محلے میں قرآن مجید کے اُستاد اور مدرسے موجود ہیں۔ لیکن کون اِس لائق ہے اور تیار ہے کہ توریت، زبور یا انجیل میں مرقوم واقعات اور پیغام سناۓ؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں قرآن شریف بیان کرتا ہے کہ خدا نے بائبل مقدس کی یہ کتابیں کُل بنی نوع انسان کی " ہدایت اور روشنی۔۔۔ اور نصیحت (تنبیہ) (سورہ ٥ آیت ٤٦ ) کے لئے عطا کی ہیں۔ قرآن شریف یہ اعلان بھی کرتا ہے، "اگر تم کو اِس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں اُن سے پوچھ لو" (سورہ ١٠ آیت ٩٤ )۔ اور جو لوگ بائبل مقدّس کو مانتے ہیں اُن سے قرآن شریف کہتا ہے "اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس قائم رہنے کی کوئی بنیاد نہیں تاوقت یہ کہ تم توریت، انجیل اور اُن سارے مکاشفات پر قائم ہو جو تمہارے رب سے تمہیں پہنچے ہیں" (سورہ ٥ آیت ٦٨ )۔

سورہ ٥ آیت ٦٦ میں یوں مرقوم ہے "کاش اُنہوں (اہلِ کتاب) نے تورات اور انجیل اور دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس بھیجی گئ تھیں"۔ "ہم نے عیسی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتے تھے اور اُن کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے" (سورہ ٥: ٤٦ )۔

مَیں (راقم الحروف) بھی اہل کتاب میں سے ہوں اور تیس سالوں سے زیادہ ہو گۓ ہیں کہ "الکتاب'' (بائبل مقدس) کو پڑھتا رہا ہوں اور اُس پر قائم ہوں۔ اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ نبیوں کے اُن واقعات اور پیغام کی منادی کروں جو آپ نے شاید ہی کبھی سنا ہو۔ اِن صحائف میں سے بعض قرآن شریف سے دو  اڑھائی ہزار سال پہلے لکھے گۓ تھے۔ اِن میں وہ سچائی بیان کی گئی ہے جو کسی دوسری جگہ موجود نہیں۔

اُس کا بیان

کیا آپ کے والدین نے آپ کو کبھی یہ نصیحت کی ہے "کسی اجنبی کا کبھی اعتبار نہ کرنا''؟ وہ جانتے تھے کہ کسی شخص کا اعتبار کرنے سے پہلے ضرور ہے کہ آپ اُسے اچھی طرح جانتے ہوں، ضرور ہے کہ آپ اُس کی تاریخ سے کسی حد تک واقف ہوں۔

چند ایسے لوگوں کو یاد کریں جن پر آپ اعتماد رکھتے ہیں۔

آپ کیوں اُن کا اعتبار کرتے ہیں؟

آپ اِس لۓ اُن کا اِعتبار کرتے ہیں کہ ایک عرصے تک اُن کے ساتھ تعلقات کے بعد آپ نے جان لیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ہیں۔ اُنہوں نے آپ کے ساتھ بُرائی نہیں بلکہ بھلائی کی۔ جب اُنہوں نے کہا کہ ہم یہ کام کریں گے، تو کیا۔ اُنہوں نے آپ کو کوئ چیز دینے کا وعدہ کیا، تو وہ چیز دی۔ آپ اُنہیں اِس لۓ قابلِ اعتماد مانتے ہیں کہ اُن کی تاریخ کو جانتے ہیں۔

بائبل مقدس سینکڑوں واقعات کا بیان کرتی ہے جب خدا نے مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ باہمی تعلق قائم کیا اور اُن کے ساتھ عمل اور ردِعمل کیا۔ ہر ایک بیان بے مثال موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آسمان اور زمین کے خالق سے ملیں، اُس کی باتیں سنیں اور انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کے سیاق و سباق میں اُس کے کام دیکھیں۔ یہ خدا کس کی مانند ہے؟ ہاں، وہ بزرگ اور عظیم ہے۔ لیکن وہ کس طرح بزرگ اور عظیم ہے؟ کیا وہ بااُصول ہے؟ کیا وہ کبھی اپنے قوانین کے خلاف کچھ کرتا ہے؟ کیا وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے؟ کیا وہ ہمیں دھوکا دے گا؟ کیا وہ قابلِ اعتبار ہے؟

اُس کی کہانی اِن سوالوں اور ہزاروں دوسرے سوالوں کا جواب دیتی ہے۔

بائبل مقدس خدا کی تاریخ کی کتاب ہے جو نہ صرف انسانی تاریخ کی بڑی تصویر پیش کرتی ہے، بلکہ خود اُس کی تاریخ پیش کرتی ہے۔

بنیادی اور حتمی ڈرامہ

ہر شخص اچھی کہانی کو پسند کرتا ہے۔

بائبل مقدس میں سینکڑوں کہانیاں ہیں جو سب مل کر ایک بڑی کہانی بن جاتی ہے۔ اور یہ کہانی بے مثال طور پر دلکش اور سحرانگیز ہے۔ خدا اور انسان کے بارے میں بائبل مقدس کا بیان اعلی' ترین اور حتمی ڈرامہ ہے __ محبت اور جنگ، نیکی اور بدی، جدوجہد اور کامیابی کی کہانی ہے۔ اِبتدا سے اِنتہا تک، آغاز سے اختتام تک یہ زندگی کے بڑے بڑے اور اہم سوالوں کے منطقی، معقول اور تسلی بخش جواب فراہم کرتی ہے۔ اِس کا نقطہ عروج اور نتیجہ خیز اختتام بے مثال ہیں۔

چند سال ہوۓ سینیگال میں اپنے گھر پر مَیں مردوں اور عورتوں کے ایک گروہ کو خدا کی کہانی سنا رہا تھا۔ جب سنا چکا تو ایک خاتون کی آنکھوں میں آنسو بھر آۓ۔ وہ کہنے لگی، "کیا خوب کہانی ہے! لوگ خدا پر ایمان نہ بھی رکھیں تو بھی اُنہیں کم سے کم یہ تو مان لینا چاہئے کہ وہ ہر زمانے کا بہترین فلمی ڈرامہ نگار ہے!'' اُس خاتون نے ایک جھلک دیکھ لی تھی کہ یہ قدیم ترین ڈرامہ پیش کرنے میں پاک صحائف کا ایک ایک حصہ کیسا موزوں بیٹھتا ہے اور اِس ڈرامے میں خدا خود ہی مصنف اور ہیرو ہے۔

سب سے بڑا اور اہم پیغام

بائبل مقدس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو کسی بھی بڑی سے بڑی، دلکش اور مسحور کن کہانی میں موجود ہو سکتا ہے۔ اِس کی کہانیوں اور واقعات میں خدا کی طرف سے ایک پیغام موجود ہے۔ یہ ہر زمانے کا وہ پیغام ہے جسے انسان ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

کئ سالوں سے مَیں بائبل مقدس کے اِس پیغام کے بارے میں ہزاروں مسلمانوں سے تبادلہ خیال کرتا  آ رہا ہوں۔ اِن میں سے بہت سے میرے ذاتی دوست ہیں اور بہتوں کو مَیں ای میل کے وسیلے سے جانتا ہوں۔ دونوں صورتوں میں اِن مباحثوں کا خلاصہ ایک سوال میں پیش کیا جا سکتا ہے:

 

واحد حقیقی خدا کا پیغام کیا ہے؟

ای میل سے ملنے والی معلومات

کئ طرح سے یہی سوال بار بار سامنے آتا ہے۔

مندرجہ ذیل ای میل مجھے مشرقِ وسطی' سے موصول ہوئ۔ بھیجنے والے صاحب کو ہم "احمد'' کا نام دے لیتے ہیں۔

ای میل

"ہیلو! یسوع مسیحِ موعود کی حیثیت سے تشریف لاۓ اور مَیں اِس بات پر ایمان رکھتا ہوں، لیکن اُنہوں نے کبھی نہیں کہا کہ مَیں خدا ہوں۔ وہ حضرت محمد (صلعم) [ ٢ ] سے پہلے خدا کے پاس جانے کا راستہ / وسیلہ تھے، لیکن اِس کے بعد سارے مسیحیوں کو مسلمان ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ جب اِس دنیا کے خاتمے کے بعد مسیح واپس آئیں گے تو وہ آپ کے نئے عہدنامے کے مطابق نہیں بلکہ قرآن شریف کے مطابق حکمرانی کریں گے۔

مسیح کو ہرگز مصلوب نہیں کیا گیا۔ اگر آپ معقول بات کریں اور مان بھی لیا جائے کہ یسوع واقعی مصلوب ہوۓ تھے تو بھی اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اِس کی وجہ سے لوگوں کے گناہ مٹ گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بالکل نامعقول اور لغو بات ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ مجھ سے کہیں کہ خدا نے اپنے پیارے، اکلوتے، بے مثال بیٹے کو قربان کر دیا تو مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ خدا ایسا قادر نہیں کہ لوگوں سے کہہ دے کہ مَیں تمہارے گناہ مٹا دینا چاہتا ہوں اور مجھے اپنے 'پیارے بیٹے' کو ایذا دینے اور قربان کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں؟؟؟ یہ سارے گنہگاروں کا معاملہ میرے نزدیک بے معنی ہے۔

صرف اسلام ہی کامل مذہب ہے جو اِس دنیا پر بھیجا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں سوچتا ہوں کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے بھیجا جانے والا آخری مذہب ہے۔ یہ واحد مذہب ہے جس میں زندگی کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ یہ آپ کے لئے اندازہ لگانے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا کہ کسی معاملے میں خدا کی کیا راۓ ہو گی۔

قرآن شریف سب سے بڑا معجزہ ہے جو کبھی کسی نبی پر اُتارا گیا۔ ٹھیک ہے! آپ صرف ایک آیت وضع کر کے دکھائیں جو قرآن شریف کی آیات کے ہم پلہ یا اِس کے قریب ہو! آپ اعلی' ترین درجے کی عربی زبان بے تکلف بول سکتے ہوں تو بھی ایسا نہ کر سکیں گے ۔۔۔ اِس کے علاوہ آپ کی بائبل میں __ یعنی اصل اور غیر محرف بائبل میں حضرت محمد (صلعم) کی آمد کے بارے میں پیش گوئیاں بھی موجود ہیں۔

مَیں یقین رکھتا اور جانتا ہوں کہ فی الوقت بائبل جعلی اور محرف ہے کیونکہ اِس کی کتابوں میں رد و بدل کۓ گۓ ہیں۔

دوست! آپ کی معلومات کے لۓ مَیں بتاتا ہوں کہ مَیں نے نیا عہدنامہ پڑھا ہے اِس لۓ نہیں کہ مجھے سچائ کی تلاش ہے بلکہ اپنی ذاتی دلچسپی کے باعث پڑھا ہے، اور ایک نہیں بلکہ دو دفعہ پڑھا ہے اور مَیں نے دیکھا ہے کہ اِس میں ہرگز کوئ ایسی بات نہیں جو عظمت میں قرآن شریف کو چھو بھی سکتی ہو کیونکہ قرآن شریف واقعی خدا کا کلام ہے جو فرشتے کے وسیلے سے محمد (صلعم) کو بھیجا گیا۔ اگر آپ اِس کے برعکس کچھ ثابت کر سکتے ہیں تو کریں۔

آپ کی سلامتی ہو

احمد

احمد کے چیلنج اور تبصرے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

ہمارا خالق ایسے معاملات کو بے وقعت نہیں سمجھتا، اور ہمیں بھی اِنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ نبیوں کے قدیم صحیفوں میں خدا نے احمد کی طرف سے اُٹھاۓ گۓ ہر مسئلے کے واضح اور صاف جواب فراہم کۓ ہیں کیونکہ ہر مسئلہ ازلی و ابدی اہمیت کے سوال سے تعلق رکھتا ہے۔

واحد حقیقی خدا کا پیغام کیا ہے؟

ایوب نبی نے بھی چند ایسے ہی سوال اُٹھاۓ تھے

  "حکمت کہاں ملے گی؟'' (ایوب ٢٨ :١٢)۔

"انسان خدا کے حضور کیسے راست باز ٹھہرے؟''    (ایوب ٢:٩)

سفر

اِس پریشان خیال میں دُنیا ہزاروں متضاد جواب یا ردِعمل ملتے ہیں۔ میرا مقصد اِس کھچڑی میں اپنے خیالات و نظریات کا اضافہ کرنا نہیں، بلکہ مَیں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ دل اور دماغ کے ساتھ اعلی' ترین کتاب، کتاب الکتب کے سفر میں میرے ساتھ شامل ہو جائیں اور زندگی کے بنیادی اور اہم سوالوں کے جواب تلاش کریں جو اِس میں موجود ہیں۔ ہم اکٹھے سفر کرتے ہوۓ دیکھیں گے کہ اِن صحیفوں کے مطابق سچ کیا ہے اور احمد اور دوسرے لوگوں کی طرف سے اُٹھاۓ گۓ چیلنجوں کے بارے میں نبیوں کے جوابات پر غور کریں گے۔

اِبتدائی تعارفی باتوں (حصہ اوّل۔ باب ١ تا ٧ ) کے بعد ہمارا سفر وہاں سے شروع ہو گا جہاں سے بائبل مقدس شروع ہوتی ہے، یعنی دنیا کی تاریخ کے آغاز سے۔ وہاں سے ہم وقت میں سے گزرتے ہوۓ ابدیت میں داخل ہوں گے (حصہ دوم و سوم، باب ٨ تا ٣٠)۔

اور سفر کا اختتام خود جنت کو دیکھنے کے بعد ہو گا۔

سفر کے انداز

ہم کہہ سکتے ہیں کہ “ایک خدا، ایک پیغام ” ایک کتاب نہیں بلکہ تین کتابوں کا مجموعہ ہے۔ حصہ اوّل میں اُن رکاوٹوں کا ذکر ہے جن کے باعث بہت سے لوگ بائبل مقدس کا مطالعہ نہیں کرتے۔ حصہ دوم میں عمدہ ترین کہانی کے مرکزی اور اہم پیغام پر سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ حصہ سوم میں پس پردہ جا کر بنی نوع انسان کے لۓ خدا کے تعجب انگیز اور رعب دار مقاصد پر گہری نظر ڈالی گئ ہے۔

بہت سے ہم سفروں کو پہلا حصہ سفر کی تیاری کرنے کے لۓ نہایت فائدہ مند معلوم ہو گا۔ تو بھی اگر آپ پہلے ہی مانتے ہیں کہ نبیوں کے صحائف معتبر یعنی قابل اعتبار ہیں، یا آپ کو مزید تاخیر کے بغیر خدا کا بیان سننے اور اُس کے پیغام کو سمجھنے کی آرزو ہے تو آپ حصہ اوّل کو چھوڑ کر فوراً حصہ دوم پر چلے جائیں اور سارا سفر طے کر لینے کے بعد حصہ اوّل کی طرف لوٹیں۔

اگر آپ آہستہ رَوی سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ کتاب کے تیس ابواب کو مہینہ بھر پر پھیلا سکتے ہیں اور ہر روز ایک باب پر غور و فکر کر سکتے ہیں۔

اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ یہ زیارتی سفر رمضان کے تیس دنوں میں کر سکتے ہیں۔ آپ کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ قرآن شریف کہتا ہے کہ "دین کے معاملے میں کوئی زور یا زبردستی نہیں ہے''۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے "۔۔۔مسلمانو، کہو  کہ : ہم ایمان لائے اللہ پر اور اُس کی ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی۔ اور جو موسی اور عیسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں" (سورہ ٢ آیت ٢٥٦ اور  ١٣٦)۔

آپ کوئ سا راستہ بھی اختیار کریں ہم آپ کو سفر کا ایک اہم گُر بتاتے ہیں __ یہ سفر شروع کر لیا تو اِس کا کوئ حصہ نہ چھوڑنا۔

ہر نیا صفحہ پچھلے صفحے پر عمارت اُٹھاتا چلا جاتا ہے۔ آپ جو کچھ دیکھتے ہیں فوری طور پر اُسے پوری طرح نہ بھی سمجھیں تو بھی آخری صفحے تک پڑھیں اور اِس دوران غور کرتے رہیں۔ سفر کے بعض حصے عجیب اور چیلنج کرنے والے ہوں گے، لیکن راستے میں تازگی کے نخلستان بھی آئیں گے۔ کتنی بھی رکاوٹیں حائل ہوں سفر جاری رکھیں۔

سچائ

اِس دنیا میں بے شمار لوگوں کی پختہ راۓ ہے کہ کوئ بھی نہیں جان سکتا کہ زندگی کے بڑے بڑے سوالوں کے بارے میں سچ یا جھوٹ کیا ہے، مثلاً انسانی نسل کہاں شروع ہوئ؟ مَیں اِس دنیا میں کیوں ہوں؟ میرا انجام کیا ہو گا؟ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے؟

آج کل مغرب میں اِس قسم کے بیان کا رواج سا ہو گیا ہے کہ "ہر بات اضافی ہے یعنی کسی دوسری بات سے نسبت رکھتی ہے۔'' یا "یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کوئ شخص کامل سچائ کو جان سکتا ہے۔'' ایسے بیانات کی خود اپنی تردید کرنے کی نوعیت کو سمجھنے کے لۓ کسی کو منطق میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ اگر کامل سچائ ہے ہی نہیں تو ایسے نظریہ کو ماننے والے "ہر بات'' کے بارے میں اثباتی دعوے کیسے کر سکتے ہیں یا کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئ بات "غلط'' ہے؟

شکر ہے کہ کائنات کا خالق جس نے زندگی کو تبدیل کرنے والی سچائ انسانوں پر ظاہر کر دی ہے وہ اِس راۓ کے ساتھ متفق نہیں۔ جو سچے دل سے اُس کی تلاش کرتے ہیں وہ اُن سے کہتا ہے:

"تم سچائ سے واقف ہو گے اور سچائ تم کو آزاد کرے گی'' (یوحنا ٣٢:٨)۔

درست انتخاب/ فیصلہ

چند سال ہوۓ میرے ٧٩ سالہ بزرگ پڑوسی موسی' نے درخواست کی کہ مَیں ہفتے میں تین بار اُس کے گھر جا کر بائبل مقدس پڑھ کر سنایا کروں۔ وہ کمزوری اور خراب صحت کی وجہ سے کہیں آ جا نہیں سکتا تھا۔ موسی' ساری عمر قرآن شریف کا مطالعہ کرتا رہا تھا۔ لیکن اُس نے موسی' کی توریت، داؤد کے مزامیر اور یسوع کی انجیل کے بارے میں کبھی غور نہیں کیا تھا۔ یہ کتابیں ہیں جن کے بارے میں قرآن شریف سارے مسلمانوں کو تاکیدی نصیحت کرتا ہے کہ اُنہیں قبول کریں اور اُن پر ایمان رکھیں [ ٣ ] ۔

مَیں اہم واقعات اور بیانات کو تاریخی ترتیب کے مطابق پڑھ کر سناتا تھا اور موسی' بڑے دھیان سے سنتا تھا۔ اُس نے جان لیا کہ سب کا خالق اور منصف ناپاک گنہگاروں کو کیسے راست باز ٹھہرا سکتا ہے۔ موسی' نے کئ بار بتایا کہ "ہم نے جن باتوں کا مطالعہ کیا ہے مَیں اُن کے بارے میں فقط سوچتا ہی نہیں بلکہ اُن پر مسلسل غور کرتا ہوں!''

ایک دن پاک کلام میں ظاہر کی گئ ایک اَور سچائ سیکھنے کے بعد موسی' نے پاس ہی بیٹھی ہوئ اپنی بیوی اور بیٹی سے بڑی مایوسی سے کہا، "ہمیں کسی نے یہ باتیں کیوں نہ سکھائیں!''

جب موسی' کے پڑوسیوں کو معلوم ہوا کہ موسی' ایک غیر ملکی شخص سے بائبل مقدس کا مطالعہ کر رہا ہے تو طرح طرح کی باتیں شروع ہو گئیں۔ دباؤ اِتنا بڑھ گیا کہ میرے اُس عمر رسیدہ دوست نے مجھ سے کہا کہ کچھ عرصے تک ہمارے گھر آنا بند کر دیں۔ اُس نے وضاحت کی کہ "مَیں سچائ کو رد نہیں کر رہا، لیکن میرے خاندان پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔''

کوئ چھے ہفتوں تک انتظار کرنے کے بعد (تاکہ مخالف باتیں ٹھنڈی پڑ جائیں) مَیں اور میری اہلیہ پھر موسی' اور اُس کے خاندان سے ملنے گۓ۔ اُس نے ہمارا پُر تپاک استقبال کیا اور چند سوال پوچھے جن پر اُس نے خوب غور کیا تھا۔ ہمارے رُخصت ہونے سے پہلے اُس نے کہا "اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ مرنے سے پہلے مَیں درست اِنتخاب کر لوں۔''

موسی' نے جان اور سمجھ لیا تھا کہ یہ قول کتنا اِہم ہے کہ "سچائ کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال'' (امثال ٢٣:٢٣ ) [ ٤ ] ۔

اِس کے چار ماہ بعد ہمارا یہ پیارا دوست اِنتقال کر گیا۔

اکٹھے گزارے ہوۓ وقتوں کو یاد کرتے ہوۓ مَیں موسی' کے جواب کو کبھی نہیں بھول سکتا جو اُس نے میرے اِس سوال پر دیا "موسی'، اگر آج رات تم رِحلت کر جاؤ تو تمہاری ابدیت کہاں گزرے گی؟''

تھوڑی سی ہچکچاہٹ  کے بعد اُس نے جواب دیا "مَیں تو جنت میں جاؤں گا۔''

مَیں نے پوچھا "تم یہ کیسے جانتے ہو؟''

اُس نے بائبل مقدس کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑتے ہوۓ جواب دیا، "کیونکہ مَیں اِس پر ایمان رکھتا ہوں!'"

وعدہ

مَیں انکشاف کا یہ سفر اُن کے نام منسوب کرتا ہوں جو موسی" کی طرح مرنے سے پہلے درست انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ واحد حقیقی خدا آپ کا ہاتھ پکڑ کر ساری رُکاوٹوں پر غالب آنے میں مدد کرے اور اپنی ذات کی اور جو کچھ اُس نے آپ کے لئے کیا ہے اُس کی بالکل صحیح اور  واضح سمجھ تک پہنچاۓ۔

""تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔ جب پورے دل سے میرے طالب ہو گے'' (یرمیاہ ١٣:٢٩)۔

یہ ہے آپ کے ساتھ خدا کا وعدہ۔


١.  میرے ملک کو "مسیحی قوم یا مسیحی ملک'' کہنا درست نہیں کیونکہ یسوع مسیح نے فرمایا کہ "میری بادشاہی اِس دنیا کی نہیں۔ اگر میری بادشاہی دنیا کی ہوتی تو میرے خادم لڑتے تاکہ مَیں یہودیوں کے حوالہ نہ کیا جاتا۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں''(یوحنا ١٨ :٣٦)۔

٢.  یہ صلی اللہ علیہ وسلم'' کا مخفف ہے۔ یہ کلمہ دعا ہے جو اِسلام کے نبی کے حق میں کہا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے آپ صلعم پر اللہ کی رحمتیں/ برکتیں ہوں۔ مسلمان اپنے نبی کا نام لکھیں تو اُس پر یہ علامت (ص) لکھتے ہیں اور بولیں تو ساتھ یہ کلمہ ضرور بولتے ہیں۔ اِس رواج کی بنیاد قرآن شریف کی اِس آیت پر ہے "اللہ اور اُس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجو" (سورۃ ٣٣آیت٥٦ )

اِس کلمہ کا استعمال بائبل مقدس سے موافقت نہیں رکھتا جو کہتی ہے "--- آدمیوں کے لۓ ایک بار مرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے'' (عبرانیوں٩: ٢٧)۔ مرنے کے بعد ہر انسان کا ابدی انجام یعنی عاقبت بے تبدیل طور پر متعین ہو جاتی ہے۔ کتنی بھی دعائیں ہوں وہ اِس بات کو تبدیل نہیں کر سکتیں کہ کوئ شخص ابدیت کہاں اور کیسے گزارے گا (مکاشفہ ١١:٢٢ )۔

٣. مثال کے طور پر قرآن شریف سورۃ ٤٠ آیات ٧٠۔٧٢ میں کہتا ہے "جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اُس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کر لیں گے جب کہ  اُن کی گردنوں میں طوق  اور زنجیریں ہوں گی۔ (یعنی) کھولتے ہوئے پانی میں، پھر  آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔" اور یہ بھی کہتا ہے  "اور اِن پیغمبروں کے بعد اِنہی کے قدموں پر ہم نے عیسی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتے تھے اور اُن کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اور تورات کی جو اِس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔ اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے" (سورہ ٥ آیت ٤٦ )۔  اور یہ بھی کہ "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اُس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اُس کے ملائکہ اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیاوہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دُور نکل گیا" (سورہ ٤ آیت ١٣٦)۔ "اے نبی ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب، عیسی، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی۔ ہم نے داؤد کو زبور دی" (سورہ ٤ آیت ١٦٣ )۔ قرآن شریف کے ایسے مزید بیانات کے لئے باب ٣ کا پہلا صفحہ اور اُس کے حواشی ملاحظہ کریں۔

٤. سچائ کو "مول لینے" کے بجاۓ بہت سے لوگ اِسے "بیچ ڈالتے'' ہیں کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ ہمارا خاندان اور ہمارے دوست ہمیں بائبل مقدس کا مطالعہ کرتے ہوۓ دیکھیں گے تو ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے، حالانکہ بائبل مقدس دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے اور قرآن شریف مسلمانوں کو حکم بھی دیتا ہے کہ اِس پر ایمان لاؤ۔)